🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : وضع اليمين على الشمال في الصلاة
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ".
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑے رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 809]
حضرت ہلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے، دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الموا قیت 73 (252)، (تحفة الأشراف: 11735) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن قنافة الطائي، أبو قبيصةصحابي
👤←👥قبيصة بن الهلب الطائي
Newقبيصة بن الهلب الطائي ← يزيد بن قنافة الطائي
مقبول
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← قبيصة بن الهلب الطائي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة متقن
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← سلام بن سليم الحنفي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
252
يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
سنن ابن ماجه
809
يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 809 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث809
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ قیام میں سنت ہاتھ باندھنا ہے۔
چھوڑنا نہیں جس طرح بعض حضرات ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔

(2)
پکڑنے سے مراد بایئں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھنا ہے جیسے کہ حدیث 811 میں آرہا ہے۔

(3)
صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ دایاں ہاتھ بایئں بازو پررکھنا چاہیے۔
دیکھئے: (صحیح البخاری، الأذان، باب وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلاۃ، حدیث: 740)
 یعنی حدیث 811 میں ید سے مراد ہتھیلی نہیں بلکہ بازو ہے۔
اس طرح دونوں حدیثوں میں تطبیق ہوجاتی ہے۔
اور ہاتھ باندھنے کی وہ کیفیت متعین ہوجاتی ہے۔
جو صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتی ہے۔

(4)
قیام میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں جیسے کہ متعدد احادیث میں مروی ہے۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
انھوں نے فرمایا:
کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
تو آپ نے دایاں ہاتھ اپنے بایئں ہاتھ پر سینہ پر رکھا۔ (صحیح ابن خزیمة، الصلاۃ، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ قبل افتتاح القراۃ، حدیث 479)
 اس کے حاشیے میں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
اس کی سند ضعیف ہے لیکن یہ حدیث صحیح ہے۔
کیونکہ دوسری کئی سندوں سے اس سے ملتے جلتے الفاظ سے مروی ہے۔
اس کی مذید تایئد سینے پر ہاتھ باندھنے کی دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
یہ احادیث مسند احمد، طبرانی، ابن ابی حاتم، اور بہیقی میں ملاحظہ کی جا سکتیں ہیں۔ (الحاکم: 537/2  والبیہقی: 30/29  والطبرانی 325/30)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 809]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 252
نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
ہلب طائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 252]
اردو حاشہ:
1؎:
اس کے برعکس امام الک ؒسے جو ہاتھ چھوڑنے کا ذکر ہے وہ شاذ ہے صحیح نہیں،
مؤطا امام مالک میں بھی ہاتھ باندھنے کی روایت موجود ہے شوافع،
احناف اور حنابلہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے،
اب رہا یہ مسئلہ کہ ہاتھ باندھے کہا جائیں سینے پر یا زیر ناف؟ تو بعض حضرات زیر ناف باندھنے کے قائل ہیں مگر زیر ناف والی حدیث ضعیف ہے،
بعض لوگ سینے پر باندھنے کے قائل ہیں ان کی دلیل وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ((صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَوَضَعَ یَدَہ الْیُمْنیٰ عَلَی یَدِہِ الْیُسْریٰ عَلَی صَدْرِہِ)) ہے،
اس روایت کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں کی ہے اوریہ ابن خزیمہ کی شرط کے مطابق ہے اور اس کی تائید ہلب الطائی کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی تخریج امام احمد نے اپنی مسند میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے ((رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ یَنْصَرِفُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَعَنْ یَّسَارِہِ وَرَأَیْتُہ یَضَعُ ہَذِہ عَلَی صَدْرِہ وَوَصفَ یَحْییٰ الْیُمْنیٰ عَلَی الْیُسْریٰ فَوْقَ الْمُفصلِ)) یزید بن قُنافہ ہُلب الطائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سلام پھیرتے وقت) دیکھا کہ آپ (پہلے) دائیں جانب مڑتے اور پھر بائیں جانب،
اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں بھی دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھتے تھے،
امام احمد بن حنبل کے استاذ یحیی بن سعید نے ہلب رضی اللہ عنہ کے اس بیان کی عملی وضاحت اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر جوڑ کے اوپر باندھ کر کی۔
اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے (مسند احمد 5/226) اور وائل بن حجر کی روایت پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں اضطراب ہے،
ابن خزیمہ کی روایت میں ((عَلَی صَدْرِہ)) ہے،
بزار کی روایت میں ((عَنْدَ صَدْرِہ)) ہے اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ((تَحْتَ السُّرَّۃِ)) ہے تو یہ اعتراض صحیح نہیں ہے،
کیو نکہ مجرد اختلاف سے اضطراب لازم نہیں آتا بلکہ اضطراب کے لیے شرط ہے کہ تمام وجوہ اختلاف برابر ہوں اور یہاں ایسا نہیں ہے ابن ابی شیبہ کی روایت میں ((تَحْتَ السُّرَّۃِ)) کا جو لفظ ہے وہ مدرج ہے،
اسے جان بوجھ کربعض مطبع جات کی طرف سے اس روایت میں داخل کر دیا گیا ہے اور ابن خزیمہ کی روایت میں
((عَلَی صَدْرِہ)) اور بزار کی روایت ((عَنْدَ صَدْرِہ)) جو آیا ہے تو ان دونوں میں ابن خزیمہ والی روایت راجح ہے،
کیونکہ ہلب طائی رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے لیے شاہد ہے،
اور طاؤس کی ایک مرسل روایت بھی اس کی تائید میں ہے اس کے برعکس بزار کی حدیث کی کوئی شاہد روایت نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 252]

Sunan Ibn Majah Hadith 809 in Urdu