🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : افتتاح القراءة
باب: نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين»  سے قراءت شروع کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 812]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے قراءت کی ابتدا فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 110، 171، 194، 281)، سنن الدارمی/الصلاة 31 (1272) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أوس بن عبد الله الربعي، أبو الجوزاء
Newأوس بن عبد الله الربعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥بديل بن ميسرة العقيلي
Newبديل بن ميسرة العقيلي ← أوس بن عبد الله الربعي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← بديل بن ميسرة العقيلي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
812
يفتتح القراءة ب الحمد لله رب العالمين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 812 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث812
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾  سے قراءت شروع کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ قراءت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے۔
اس کے بعد کوئی دوسری صورت یا آیات تلاوت کرتے تھے۔
اس صورت میں (بسم اللہ)
بھی اونچی آواز میں پڑھنا ثابت ہوگا۔
کیونکہ وہ سورت فاتحہ کے ساتھ ہی شامل ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ (بسم اللہ)
کی آیت جہر سے نہیں پڑھتے تھے۔
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ﴾ سے شروع کرتے تھے۔
صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین سے دونوں طرح کی روایات آئی ہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (بسم اللہ)
جہر سے پڑھنے کے قائلین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسمائے گرامی ذکر کیے ہیں اور (بسم اللہ)
آہستہ پڑھنے والوں میں خلفاء اربعہ کے اسمائے گرامی بیان کیے ہیں۔
دیکھئے: (جامع ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی الترک الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،   حدیث: 244  وباب من رائ الجھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،   حدیث: 245)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 812]

Sunan Ibn Majah Hadith 812 in Urdu