سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ : الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو فرض اور نفل نماز کی ہر رکعت میں ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ﴾ [سورة الفاتحة: 2] اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہیں پڑھتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4359، ومصباح الزجاجة: 306) (ضعیف)» (ابو سفیان طریف بن شہاب السعدی ضعیف ہیں، اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابو داود: 777)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو سفيان السعدي طريف بن شهاب: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
إسناده ضعيف
أبو سفيان السعدي طريف بن شهاب: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
839
| لا صلاة لمن لم يقرأ في كل ركعة بالحمد لله وسورة في فريضة أو غيرها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 839 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث839
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور صورت کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔
لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس لئے صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔
اور دوسری سورت کا پڑھنا مستحب ہے۔
واجب (فرض)
نہیں۔ (إنجاز الحاجة)
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ کسی اور صورت کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔
لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس لئے صرف سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔
اور دوسری سورت کا پڑھنا مستحب ہے۔
واجب (فرض)
نہیں۔ (إنجاز الحاجة)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 839]
Sunan Ibn Majah Hadith 839 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري