Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : الجهر بآمين
باب: آمین زور سے کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: تَرَكَ النَّاسُ التَّأْمِينَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 قَالَ: آمِينَ حَتَّى يَسْمَعَهَا أَهْلُ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَيَرْتَجُّ بِهَا الْمَسْجِدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتے تو آمین کہتے، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15444، ومصباح الزجاجة: 311)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 172 (934) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابو عبداللہ مجہول ہیں، اور بشر بن رافع ضعیف ہیں، اس لئے ابن ماجہ کی یہ روایت جس میں «فيرتج بها المسجد» (جس سے مسجد گونج جائے) کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 465)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (934)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن الصامت الدوسي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن الصامت الدوسي ← أبو هريرة الدوسي
مجهول
👤←👥بشر بن رافع الحارثي، أبو الأسباط
Newبشر بن رافع الحارثي ← عبد الرحمن بن الصامت الدوسي
منكر الحديث
👤←👥صفوان بن عيسى القرشي، أبو محمد
Newصفوان بن عيسى القرشي ← بشر بن رافع الحارثي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← صفوان بن عيسى القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
920
إذا قال القارئ غير المغضوب عليهم ولا الضالين
سنن أبي داود
934
غير المغضوب عليهم ولا الضالين
سنن ابن ماجه
853
إذا قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 853 کے فوائد و مسائل
حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابن ماجه 853
فقہ الحدیث
بشر بن رافع کی روایت میں یہ الفاظ: لوگوں نے آمین چھوڑ دی ہے سخت باطل بلکہ موضوع ہیں کیونکہ صحابہ و تابعین سے تو آمین بالجہر ثابت ہے۔ «والحمدلله»
[ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 134، حدیث/صفحہ نمبر: 20]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث853
اردو حاشہ:
فائده:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
تاہم یہ مسئلہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
دیکھئے۔ (سلسلة الاحادیث الصحیحة، حدیث: 464)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں۔
کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کےپیچھے نماز پڑھنے والے (مقتدی)
حضرات نے آمین کہی حتیٰ کہ مسجد گونج اٹھی۔ (صحیح البخاري، الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 853]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 934
امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تلاوت فرماتے تو آمین کہتے یہاں تک کہ پہلی صف میں سے جو لوگ آپ سے نزدیک ہوتے اسے سن لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 934]
934۔ اردو حاشیہ:
امام دارقطنی رحمہ اللہ اور امام بہقی نے اس حدیث کو حسن اور امام حا کم نے صحیح على شرطہا بخاری و مسلم کہا ہے۔ ان احادیث سے استدلال یوں ہے کہ مقتدی امام کی اتباع کا پابند ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ «صَلُّوا كَمَا رَأَيتُمُونِي أُصَلِّي» تم نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري۔ حديث 631]
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام ہوتے ہوئے آمین کہی، تو مقتدی کے لئے بھی ثابت ہو گئی۔ [عن المعبود]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت دلیل ہے کہ آمین چیخ کر نہ کہی جائے بلکہ درمیانی آواز سے کہی جائے۔ جس میں عجز و فروتنی کا اظہار ہو۔ چیخ کر آمین کہنا۔ عجز و نیاز کے منافی ہے، اس لئے ایسا کرنا صحیح نہیں اس طرح بغیر آواز نکالے دل میں آمین کہنا بھی خلاف سنت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 934]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 920
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری (پڑھنے والا امام) ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّيْن﴾ پڑھتا ہے اور مقتدی آمین کہتا ہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کے موافق ہوتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:920]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام جب سورۃ فاتحہ ختم کرتا ہے،
یعنی:
﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّيْن﴾ کہہ لیتا ہے تو اس وقت امام اور فرشتے آمین کہتے ہیں اور مقتدی کو بھی بلا توقف اس وقت آمین کہنی چاہیے سری نماز میں بالاتفاق امام،
متقدی اور منفرد کو آہستہ آمین کہنا چاہیے اور جہری نمازوں میں آمین امام اور مقتدی دونوں کو بلند آواز سے کہنا چاہیے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا یہی موقف ہے اور یہی حق ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام جہری نماز میں آمین نہیں کہے گا،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام اور مقتدی دونوں آمین آہستہ کہیں گے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 920]