سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : الركوع في الصلاة
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، فَلَمَحَ بِمُؤْخِرِ عَيْنِهِ رَجُلًا لَا يُقِيمُ صَلَاتَهُ، يَعْنِي: صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 871]
حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ جو اپنے قبیلے کے وفد میں شامل تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ (اپنے علاقے سے) روانہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے کنارے سے ایک آدمی کو دیکھا کہ رکوع اور سجدہ صحیح ادا نہیں کر رہا تھا، یعنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو رکوع اور سجدہ میں کمر کو سیدھی نہیں کرتا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10020، ومصباح الزجاجة: 321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
871
| لا صلاة لمن لا يقيم صلبه في الركوع والسجود |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 871 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث871
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دین کا علم حاصل کرنے کےلئے سفر کرکے بڑے علماء کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے۔
(2)
چہرے کا رُخ موڑے بغیر آنکھ کے کنارے سے دیکھ کر دوسرے کی حرکات وسکنات کا علم ہوجائے تو نماز میں فرق نہیں پڑتا۔
گردن موڑ کردیکھنا منع ہے۔
(3)
جماعت میں ایک شخص سے غلطی ہوجائے۔
تو سب کو مسئلہ بتا دینا چاہیے۔
تاکہ دوسرے بھی اس غلطی سے اجتناب کریں۔
اور غلطی کرنے والے کا پردہ بھی رہ جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دین کا علم حاصل کرنے کےلئے سفر کرکے بڑے علماء کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے۔
(2)
چہرے کا رُخ موڑے بغیر آنکھ کے کنارے سے دیکھ کر دوسرے کی حرکات وسکنات کا علم ہوجائے تو نماز میں فرق نہیں پڑتا۔
گردن موڑ کردیکھنا منع ہے۔
(3)
جماعت میں ایک شخص سے غلطی ہوجائے۔
تو سب کو مسئلہ بتا دینا چاہیے۔
تاکہ دوسرے بھی اس غلطی سے اجتناب کریں۔
اور غلطی کرنے والے کا پردہ بھی رہ جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 871]
Sunan Ibn Majah Hadith 871 in Urdu
عبد الرحمن بن علي الحنفي ← علي بن شيبان السحيمى