🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : الركوع في الصلاة
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ سَوَّى ظَهْرَهُ حَتَّى لَوْ صُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ لَاسْتَقَرَّ".
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 872]
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کمر اس قدر برابر کرتے تھے کہ اگر کمر پر پانی ڈالا جائے تو ٹھہر جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11739، ومصباح الزجاجة: 322) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں طلحہ بن زید، عثمان بن عطاء، اور ابراہیم بن محمد ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق، د؍ عوض الشہری، و مجمع الزوائد: 2/ 123)
وضاحت: ۱ ؎: سبحان اللہ، مکمل نماز اس کو کہتے ہیں، یہ تو ظاہری آداب ہیں اور دل کے خشوع و خضوع اور اطمینان اس کے علاوہ ہیں، بڑا ادب یہ ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کے دنیاوی خیالات نہ آئیں، اور نمازی یہ سمجھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ کیفیت نہ طاری ہو سکے تو یہی سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
طلحة بن زيد: متروك،قال أحمد وعلي وأبو داود: كان يضع (تقريب: 3020)
راشد: مجھول
وعبد اللّٰه بن عثمان بن عطاء لين الحديث (تقريب: 1858،3469)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وابصة بن معبد الأسدي، أبو سالم، أبو الشعثاء، أبو سعيدصحابي
👤←👥راشد بن أبي راشد
Newراشد بن أبي راشد ← وابصة بن معبد الأسدي
مجهول الحال
👤←👥طلحة بن زيد القرشي، أبو محمد، أبو مسكين
Newطلحة بن زيد القرشي ← راشد بن أبي راشد
متروك الحديث
👤←👥عبد الله بن عثمان الخراساني، أبو محمد
Newعبد الله بن عثمان الخراساني ← طلحة بن زيد القرشي
مقبول
👤←👥إبراهيم بن محمد المقدسي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد المقدسي ← عبد الله بن عثمان الخراساني
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
872
إذا ركع سوى ظهره حتى لو صب عليه الماء لاستقر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 872 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث872
اردو حاشہ:
فائده:
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الروض النضیر فی ترتیب وتخریج معجم الطبراني الصغیر، رقم: 78 وصفة الصلاة للألبانی رحمة اللہ علیه)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 872]

Sunan Ibn Majah Hadith 872 in Urdu