سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ : مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: رَجُلٌ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْخَيْلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْإِبِلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْغَنَمِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الرَّقِيقِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، وَطَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 879]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ (اس اثنا میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دنیوی) خوش قسمتی (اور مال و دولت) کا ذکر کیا گیا۔ ایک نے کہا: ”فلاں گھوڑوں کے لحاظ سے بڑا خوش نصیب ہے۔“ (بہت سے گھوڑے اس کی دولت ہیں) دوسرے نے کہا: ”فلاں کی خوش قسمتی اونٹوں سے ہے۔“ ایک اور بولا: ”فلاں کی اچھی قسمت بکریوں سے ہے۔“ ایک اور بولا: ”فلاں لونڈی اور غلاموں کے لحاظ سے بڑا خوش بخت ہے۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، اور آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے (سب) تعریف ہے۔ آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے، اس کے بھرنے کے برابر۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمائے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو روک لے (اور نہ دینا چاہے) وہ چیز کوئی دے نہیں سکتا اور کسی (دنیوی) قسمت (اور مال و دولت) والے کی (ظاہری) خوش قسمتی (اور دولت) اسے تجھ سے (بچانے میں) کام نہیں آ سکتی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری جملہ «وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» فرماتے وقت آواز کو طول دیا تاکہ ان (صحابہ) کو معلوم ہو جائے کہ حقیقت وہ نہیں جو وہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11820، ومصباح الزجاجة: 325) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو مجہول ہیں، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث میں مذکور دعاء «اللهم ربنا» صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح مسلم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، ومصباح الزجاجة)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو عمر لا يعرف حاله‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو عمر لا يعرف حاله‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفة | صحابي | |
👤←👥نشيط المنبهي، أبو عمرو، أبو عمر نشيط المنبهي ← وهب بن وهب السوائي | ثقة | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← نشيط المنبهي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥إسماعيل بن موسى، أبو محمد، أبو إسحاق إسماعيل بن موسى ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق يتشيع |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
879
| اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد |
Sunan Ibn Majah Hadith 879 in Urdu
نشيط المنبهي ← وهب بن وهب السوائي