🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : ما يقول إذا رفع رأسه من الركوع
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة40 (476)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (846)، (تحفة الأشراف: 5173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 354، 356، 381) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥عبيد بن الحسن المزني، أبو الحسن
Newعبيد بن الحسن المزني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبيد بن الحسن المزني
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1068
اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد
صحيح مسلم
1069
اللهم لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد اللهم طهرني من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الوسخ
صحيح مسلم
1067
سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد
سنن أبي داود
846
إذا رفع رأسه من الركوع يقول سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد
سنن ابن ماجه
878
سمع الله لمن حمده اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 878 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث878
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کا اصل مقصد ذکر الٰہی ہے۔
ارشاد ربانی ہے۔
﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (طہٰ: 14)
میری یاد کےلیے نماز قائم کر اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے رکوع وسجود اور قومہ جلسہ وغیرہ میں پڑھنے کےلئے بہت سے اذکار سکھائے ہیں۔
ان اذکار اور دعائوں کو یاد کھنا چاہیے۔
اور نمازوں میں پڑھتے رہنا چاہیے۔
بالخصوص تہجد کی نماز میں طویل دعایئں اور اذکار پڑھ کر زیادہ سے زیادہ ثواب اور قُرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(2)
بعض روایات میں بالا الفاظ کے بعد یہ اضافہ ہے۔
 (أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)
اے تعریفوں اور عظمتوں والے بندہ (تیری تعریف میں)
جو کچھ بھی کہے اس میں سب سے سچی بات یہ ہے اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔
کہ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے۔
اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک لے، وہ چیز کوئی دے نہیں سکتا۔
کسی (دنیوی)
شان وشوکت والے کی شان وشوکت تیرے غضب سے بچاؤ کےلئے اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
 (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقول إذا رفع راسه من الرکوع، حدیث: 477)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 878]