🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب في القدر
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2879، ومصباح الزجاجة: 36) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں بقیہ بن الولید اور ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، اور «وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم» کا جملہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: السنة لا بن أبی عاصم: 337)
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر کے منکرین کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ دو خالق کے قائل ہیں: ایک خیر کا خالق ہے، اس کا نام یزدان ہے، اور دوسرا شر کا خالق ہے، اس کا نام اہرمن ہے، اور قدریہ خالق سے خلق کے اختیار کو سلب کرتے ہیں اور خلق کو ہر مخلوق کے لئے ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شر کا خالق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اصلح (زیادہ بہتر کام) واجب ہے، اور اسی لئے علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ معتزلہ مجوس سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ دو ہی خالق اور الٰہ کے قائل ہیں اور معتزلہ بہت سے خالقوں کے قائل ہیں کہ وہ ہر انسان کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون جملة التسليم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج و أبو الزبير مدلسان وعنعنا
ولبعض الحديث طرق أخري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← ابن جريج المكي
ثقة مأمون
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥محمد بن المصفى القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المصفى القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
صدوق له أوهام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
92
مجوس هذه الأمة المكذبون بأقدار الله إن مرضوا فلا تعودوهم إن ماتوا فلا تشهدوهم إن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم
المعجم الصغير للطبراني
17
مجوس هذه الأمة المكذبون بأقدار الله إن مرضوا فلا تعودوهم إن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم إن ماتوا فلا تشهدوهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 92 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث92
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے شواہد کی بنیاد پر اسی روایت کے آخری جملے (وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا ...)
کے بغیر حسن کہا ہے۔
دیکھئے: (تخريج احاديث المشكوة، حديث: 107، وضلال الجنة في تخريج السنة، حديث: 328)

(2)
منکرین تقدیر کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا خالق ہے، شر کا خالق انسان ہے۔
اس طرح انہوں نے گویا ہر انسان کو خالق مان لیا۔
مجوسی دو خداؤں کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق (یزدان)
اور ایک برائی کا خالق (اہرمن۔)
اس طرح یہ دونوں (منکرین تقدیر اور مجوس)
شر کاً خالق اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کو مانتے ہیں جب کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ ان اعمال کا فاعل اور کرتکب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندے کو نیکی اور بدی کرنے کی طاقت بخشی ہےاور اسے دونوں میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے۔
کوئی فرد نفس امارہ اور شیطان کے دھوکے میں آ کر غلط راہ منتخب کر لیتا ہے اور اللہ کو ناراض کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
کوئی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر چلتا اور اللہ کو راضی کر کے اس کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

Sunan Ibn Majah Hadith 92 in Urdu