سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : ما يقال بعد التسليم
باب: سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 925
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18250، ومصباح الزجاجة: 338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294، 318، 322) (صحیح)» (سند میں مولیٰ ام سلمہ مبہم ہے، لیکن ثوبان کی حدیث (جو أبوداود، و ترمذی میں ہے) سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہو کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد جہاں نماز پڑھی ہے اسی جگہ بیٹھے ہوئے دوسری دعا بھی پڑھ سکتے ہیں، اور پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بھی کیا کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد اٹھ گئے، دوسری حدیث میں نماز کے بعد آیۃ الکرسی اور تسبیحات کا پڑھنا وارد ہے، اور ممکن ہے کہ فرض کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چیزیں نہ پڑھتے ہوں بلکہ سنتوں کے بعد پڑھتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
مولي أم سلمة مجھول و لم يثبت في رواية صحيحة بأنه عبد اللّٰه بن شداد (انظر مسند الحميدي بتحقيقي: 299)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
سنده ضعيف
مولي أم سلمة مجھول و لم يثبت في رواية صحيحة بأنه عبد اللّٰه بن شداد (انظر مسند الحميدي بتحقيقي: 299)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥مولى أم سلمة مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي | مجهول | |
👤←👥موسى بن أبي عائشة الهمداني، أبو الحسن، أبو بكر موسى بن أبي عائشة الهمداني ← مولى أم سلمة | ثقة يرسل | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← موسى بن أبي عائشة الهمداني | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو شبابة بن سوار الفزاري ← شعبة بن الحجاج العتكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← شبابة بن سوار الفزاري | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
925
| اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا |
المعجم الصغير للطبراني |
958
| اللهم إني أسألك رزقا طيبا وعلما نافعا وعملا متقبلا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 925 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث925
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
یہ ایک جامع دعا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ایسی دعایئں مانگتے تھے جو جامع ہوں اور تھوڑے الفاظ میں زیادہ فائدے کی چیزوں کی دعا ہوجائے۔
(2)
علم نافع سے مراد وہ علم ہے۔
جس پر انسان کو عمل کی توفیق نصیب ہو اور اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔
یعنی تحریر وتقریر اور اسوۃ حسنہ کے ذریعے سے دوسروں تک پہنچے تاکہ وہ بھی عمل کر کے اس شخص کی نیکیوں میں اضافے کا باعث ہوں۔
(3)
پاک رزق سے مراد حلال رزق ہے جو جائز طریقے سے کمایا گیا ہو۔
(4)
قبول کرنے والا عمل ہے جو خالص نیت سے اللہ کی رضا کےلئے کیا جائے۔
اور سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔
فوائد ومسائل:
(1)
یہ ایک جامع دعا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ایسی دعایئں مانگتے تھے جو جامع ہوں اور تھوڑے الفاظ میں زیادہ فائدے کی چیزوں کی دعا ہوجائے۔
(2)
علم نافع سے مراد وہ علم ہے۔
جس پر انسان کو عمل کی توفیق نصیب ہو اور اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔
یعنی تحریر وتقریر اور اسوۃ حسنہ کے ذریعے سے دوسروں تک پہنچے تاکہ وہ بھی عمل کر کے اس شخص کی نیکیوں میں اضافے کا باعث ہوں۔
(3)
پاک رزق سے مراد حلال رزق ہے جو جائز طریقے سے کمایا گیا ہو۔
(4)
قبول کرنے والا عمل ہے جو خالص نیت سے اللہ کی رضا کےلئے کیا جائے۔
اور سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 925]
مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي