سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : ما يقال بعد التسليم
باب: سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَال: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ، وَيُنْفِقُونَ وَلَا نُنْفِقُ، قَالَ لِي:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ قَبْلَكُمْ وَفُتُّمْ مَنْ بَعْدَكُمْ؟ تَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتُسَبِّحُونَهُ، وَتُكَبِّرُونَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَرْبَعٌ؟.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں (کے مقام) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو (۳۳) بار، (۳۳) بار اور (۳۴) بار“۔ سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو (۳۴) بار کہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 927]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے خود کہا: ”اے اللہ کے رسول! مال و دولت والے تو اجر و ثواب لے گئے (اور ہم غریب پیچھے رہ گئے)، زبان سے ادا کی جانے والی عبادت جس طرح ہم کرتے ہیں، وہ بھی کرتے ہیں اور وہ (اپنے مال اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور ہم (استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے) خرچ نہیں کرتے۔”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو گے تو آگے نکل جانے والوں کو جا لو گے اور پیچھے رہ جانے والے تم تک نہ پہنچ سکیں گے؟ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس اور چونتیس بار «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا کرو۔”امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں ان میں سے کون سا کلمہ چونتیس بار ہے۔” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11934)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 155 (843)، الدعوات 17 (6329) عن أبي ہریرة، صحیح مسلم/المساجد 26 (595)، سنن ابی داود/الصلاة 359 (1504)، موطا امام مالک/القرآن 7 (22)، مسند احمد (2/238، 5/167، 168)، سنن الدارمی/الصلاة 90 (1393) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥عاصم بن سفيان الثقفي عاصم بن سفيان الثقفي ← أبو ذر الغفاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥بشر بن عاصم الثقفي بشر بن عاصم الثقفي ← عاصم بن سفيان الثقفي | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← بشر بن عاصم الثقفي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥الحسين بن الحسن السلمي، أبو عبد الله الحسين بن الحسن السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1504
| تكبر الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتحمده ثلاثا وثلاثين وتسبحه ثلاثا وثلاثين وتختمها بلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر |
سنن ابن ماجه |
927
| تحمدون الله في دبر كل صلاة وتسبحونه وتكبرونه ثلاثا وثلاثين وثلاثا وثلاثين وأربعا وثلاثين |
المعجم الصغير للطبراني |
285
| ألا أدلكم على أمر إذا فعلتموه أدركتم من سبقكم ، ولم يلحقكم من خلفكم إلا من عمل بمثل ما عملتم به ؟ تسبحون الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين ، وتحمدونه ثلاثا وثلاثين ، وتكبرونه أربعا وثلاثين ، فبلغ ذلك الأغنياء ، فقالوا مثل ما قالوا ، فأتوا النبى صلى الله عليه وآله وسلم ، فأخبروه ، فقال : ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 927 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث927
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:
(1)
نیکیوں میں مسابقت کا جذبہ قابل غور ہے۔
(2)
ذکرالٰہی بعض اوقات مالی عبادات سے بھی زیادہ ثواب کاباعث ہوتا ہے۔
(3)
آگے نکل جانے والوں کو پا لینے کامطلب یہ ہے۔
کہ جو لوگ بہت سی دوسری نیکیاں کر کے تم سے زیادہ بلند درجات تک پہنچ گئے ہیں۔
تم ذکر الٰہی کی برکت سے ان سے زیادہ درجات حاصل کرسکتے ہو۔
اور ذکر الٰہی سے غافل دوسری نیکیاں زیادہ کرنے والے تمہارے جتنے درجات حاصل نہیں کرسکتے۔
اس لئے دوسری نیکیوں کے ساتھ ساتھ ذکر الٰہی کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔
(4)
یہاں راوی کوشک ہے کہ تینوں کلمات میں سے کون سا کلمہ چونتیس بار ہے۔
دوسری روایات سے اس کا یقین ہوجاتا ہے۔
کہ چونتیس بار کہا جانے والا کلمہ اللہ اکبر ہے۔ (سنن ابی داؤد، الأدب، باب فی التسبیح عند النوم، حدیث: 5062)
فوائدو مسائل:
(1)
نیکیوں میں مسابقت کا جذبہ قابل غور ہے۔
(2)
ذکرالٰہی بعض اوقات مالی عبادات سے بھی زیادہ ثواب کاباعث ہوتا ہے۔
(3)
آگے نکل جانے والوں کو پا لینے کامطلب یہ ہے۔
کہ جو لوگ بہت سی دوسری نیکیاں کر کے تم سے زیادہ بلند درجات تک پہنچ گئے ہیں۔
تم ذکر الٰہی کی برکت سے ان سے زیادہ درجات حاصل کرسکتے ہو۔
اور ذکر الٰہی سے غافل دوسری نیکیاں زیادہ کرنے والے تمہارے جتنے درجات حاصل نہیں کرسکتے۔
اس لئے دوسری نیکیوں کے ساتھ ساتھ ذکر الٰہی کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔
(4)
یہاں راوی کوشک ہے کہ تینوں کلمات میں سے کون سا کلمہ چونتیس بار ہے۔
دوسری روایات سے اس کا یقین ہوجاتا ہے۔
کہ چونتیس بار کہا جانے والا کلمہ اللہ اکبر ہے۔ (سنن ابی داؤد، الأدب، باب فی التسبیح عند النوم، حدیث: 5062)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 927]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1504
کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے“، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد (۳۳) بار «الله اكبر» (۳۳) بار «الحمد الله» (۳۳) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو ”جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1504]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے“، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد (۳۳) بار «الله اكبر» (۳۳) بار «الحمد الله» (۳۳) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو ”جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1504]
1504. اردو حاشیہ: صحیح مسلم۔ المساجد حدیث: 59
➎ وسنن نسائی، السھو۔ حدیث: 354 اور سنن بہیقی (دعوات) اس میں ورد کی ترتیب سبحان اللہ۔ الحمد للہ۔ اور اللہ اکبر وارد ہے۔ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس روایت میں آخری جملہ (غفرت له ذنوبه...الخ]
صحیح نہیں ہے بلکہ مدرج ہے۔ تاہم دوسری روایات سے یہ جملہ مرفوعا ً ثابت ہے۔
➎ وسنن نسائی، السھو۔ حدیث: 354 اور سنن بہیقی (دعوات) اس میں ورد کی ترتیب سبحان اللہ۔ الحمد للہ۔ اور اللہ اکبر وارد ہے۔ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس روایت میں آخری جملہ (غفرت له ذنوبه...الخ]
صحیح نہیں ہے بلکہ مدرج ہے۔ تاہم دوسری روایات سے یہ جملہ مرفوعا ً ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1504]
Sunan Ibn Majah Hadith 927 in Urdu
عاصم بن سفيان الثقفي ← أبو ذر الغفاري