🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : إذا حضرت الصلاة ووضع العشاء
باب: جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيَعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا (سامنے) آ جائے اور نماز کی اقامت ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16940، 17264)، وحدیث علی بن محمد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (558)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (671)، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1317) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ حجة
👤←👥سهل بن أبي سهل الرازي، أبو عثمان، أبو عمرو
Newسهل بن أبي سهل الرازي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5465
أقيمت الصلاة وحضر العشاء فابدءوا بالعشاء
صحيح البخاري
671
إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
سنن ابن ماجه
935
إذا حضر العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
المعجم الصغير للطبراني
297
إذا حضر العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
مسندالحميدي
182
إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 935 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث935
اردو حاشہ:
فائده:
نماز سے پہلے کھانا کھا لینے کا حکم شدید بھوک ہی کی صورت میں ہے۔
بصورت دیگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے گریز سخت نا مناسب ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 935]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:182
فائدہ:
کھانا سامنے ہو اور نماز کی اقامت کہی جائے تو پہلے کھانا کھانا چاہیے، تاکہ نماز کے خشوع و خضوع میں فرق نہ پڑے، اور نماز مکمل یکسوئی کے ساتھ ادا کی جائے۔ یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔ چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جا تا ہے اس لیے احادیث میں ان کا ذکر ہے۔ امام صاحب اس سے مستثنٰی ہیں کیونکہ اس نے نماز پڑھانی ہوتی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری: 675، الأذان، الإمام إلى الصلاة وبيده مايأكل)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 182]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5465
5465. سیدنا عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے اور رات کا کھانا سامنے ہو تو پہلے عشائیہ تناول کرو۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے حضرت ہشام سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: جب رات کا کھانا چن دیا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ:
یعنی کھانا سامنے آ جائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیئے تاکہ پھر نماز سکون سے ادا کی جا سکے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5465]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:671
671. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دوران اقامت میں کھانا سامنے رکھ دیا جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:671]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو دو مختلف الفاظ سے بیان کیا ہے:
ایک روایت میں اِذَا حَضَرَ ہے جس کے معنی ہیں:
جب وہ حاضر اور تیار ہو۔
دوسری روایت میں ہے، اِذَا وُضِعَ جب اسے پیش کردیا جائے۔
چونکہ حَضَرَکے الفاظ میں زیادہ عموم ہے، لہٰذا اسےوُضِعَ کے معنی میں لیا جائے گا۔
اس تائید دیگر روایات سے بھی ہوتی ہے جن کے الفاظ إذا قدم یا إذا قرب ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب کھانا موجود ہویا اسے بول وبراز مجبور کررہے ہوں تو ایسے حالات میں نماز نہیں ہوتی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1246(560)
وفتح الباري: 280/2) (2)
کھانے کو نماز پر مقدم کرنے کے سلسلے میں علماء وفقہاء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں:
بعض علماء کہتے ہیں کہ جب کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ قلت طعام پرمحمول ہے کہ کھانا تھوڑا ہو اور کھانے والے زیادہ ہوں اور اندیشہ ہوکہ اگر نماز شروع کردی گئی تو کھانا ختم ہوجائے گا، ایسے حالات میں پہلے کھانا کھا لیا جائے، پھر نماز پڑھی جائے۔
ہمارے نزدیک بہتر توجیہ یہ ہے کہ مذکورہ اجازت اس وقت ہے جبکہ اشتغال قلب کا اندیشہ ہو، یعنی اگر کھانا نہ کھایا جائے تو نماز میں خیال کھانے کی طرف لگا رہے۔
اگر ایسی صورت ہوتو پہلے کھانا کھائے پھر نماز پڑھے۔
امام بخاری ؒ کا میلان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت ابو درداء ؓ کے مقولے میں اس بات کی صراحت ہے۔
امام بخاری ؒ کا رجحان عنوان کے تحت دیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 20/2)
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 671]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5465
5465. سیدنا عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے اور رات کا کھانا سامنے ہو تو پہلے عشائیہ تناول کرو۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے حضرت ہشام سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: جب رات کا کھانا چن دیا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ جب کھانا اور نماز دونوں حاضر ہوں تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تاکہ دل کھانے کی طرف لٹکا نہ رہے اور نماز اطمینان و سکون سے ادا کی جائے۔
اسی طرح اگر کھانے کے دوران میں نماز کھڑی ہو جائے تو کھانا چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ فراغت کے بعد اطمینان سے نماز کی طرف جانا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جب تم میں سے کوئی کھانے پر ہو تو جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے جلدی مت کرے اگرچہ نماز کے لیے اقامت ہی کیوں نہ کہہ دی جائے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 674) (2)
یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔
چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جاتا ہے، اس لیے احادیث میں ان کا ذکر آیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5465]

Sunan Ibn Majah Hadith 935 in Urdu