🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : ما يستر المصلي
باب: نمازی کے سترہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 940]
حضرت طلحہ بن عبداللہ تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزر رہے تھے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنی چیز (سترہ کے طور پر) موجود ہو تو آگے سے گزرنے والا اسے کوئی نقصان نہ دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 47 (499)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (685)، سنن الترمذی/الصلاة 133 (335)، (تحفة الأشراف: 5011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161، 162) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کا اندازہ بقدر ایک ہاتھ کے کیا ہے، اور موٹا بقدر ایک انگلی کے کافی ہے، اور سترے کے نزدیک کھڑا ہونا نمازی کے لئے بہتر ہے، اسی طرح سترے کو دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمدصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥عمر بن عبيد الطنافسي، أبو حفص
Newعمر بن عبيد الطنافسي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عمر بن عبيد الطنافسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1112
مثل مؤخرة الرحل تكون بين يدي أحدكم ثم لا يضره ما مر بين يديه
صحيح مسلم
1111
إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل ولا يبال من مر وراء ذلك
جامع الترمذي
335
إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل ولا يبالي من مر وراء ذلك
سنن أبي داود
685
إذا جعلت بين يديك مثل مؤخرة الرحل فلا يضرك من مر بين يديك
سنن ابن ماجه
940
مثل مؤخرة الرحل تكون بين يدي أحدكم فلا يضره من مر بين يديه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 940 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث940
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو۔
جہاں عام لوگوں کا اس کے آگے سے گزرنے کا اندیشہ ہو تو سترہ رکھ لینا مسنون ہے۔

(2)
سترہ کس طرح کا، یہ کتنا اونچا ہو۔
؟ اس کی حد اس حدیث سے متعین ہو جاتی ہے۔
کہ وہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا ہو۔
یہ تقریباً سوا یا ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے۔
اس اعتبار سے سترہ کم از کم سوا یا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔

(3)
اس میں اشارہ ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے کوئی شخص گزرے تو نمازی کی نماز متاثر ہوگی۔
اس سے بعض علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ خشوع و خضوع میں فرق پڑتا ہے۔
جب کہ ستر ہ ہونے کی صورت میں نمازی کی توجہ محدود جگہ میں رہتی ہے۔
صحیح مسلم میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
که بغیر سترے کے نماز پڑھنے والے کی نماز عورت، گدھے اور کالے کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ (صحیح المسلم، صلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی، حدیث: 510)
 سنن ابن ماجہ میں (حدیث: 949)
المرأۃ الحائض کے الفاظ ہیں۔
جس سے مراد بالغ عورت ہے ممکن ہے اس سے یہ مراد ہو۔
کہ عورت ایام حیض میں ہوتو اس کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے ورنہ نہیں لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔

(4)
شیخ احمد شاکررحمۃ اللہ علیہ (مصری)
نے سنن ابو داؤد کی حدیث (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَئْيٌ)
 (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب من قال لا یقطع الصلاۃ شیئ، حدیث: 719)
 نماز کسی چیز کے گزرنے سے نہیں ٹوٹتیکو ان تمام احادیث کا ناسخ قرار دیا ہے۔
اور مزید کہا کہ (سنن دراقطني: 367/3 وسنن الکبريٰ للبہیقي: 278/2)
کی روایت سے اس رائے کی تایئد ہوتی ہے۔
تفصیل کےلے دیکھئے: (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء انه لایقطع الصلاۃ الا الکلب والحمار والمرأۃ، حدیث: 338، حاشہ شيخ احمد شاکر رحمة اللہ علیه)

(4)
سترے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گزرنا چاہے تو سترے سے پرے گزر جائے سترے اور نمازی کے درمیان سے نہ گزرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 940]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 685
نمازی کے سترہ کا بیان۔
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 685]
685۔ اردو حاشیہ:
معلوم ہوا کہ سترہ نہ رکھنے سے نمازی کو نقصان ہوتا ہے۔ یعنی اس کے خشوع خضوع اور اجر میں کمی ہوتی ہے یا کم از کم اتباع امر کی تقصیر کا نقصان تو واضح ہے اور یہ سترہ کم از کم فٹ یا ڈیڑھ فٹ کے درمیان کوئی چیز ہونی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 685]

Sunan Ibn Majah Hadith 940 in Urdu