🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب : صفة السجود
باب: سجدہ کرنے کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ هُوَ النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا صَلَّى جَخَّى".
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازو کھلا رکھتے، اور انہیں اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1902) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة مكثر
👤←👥يونس بن أبي إسحاق السبيعي، أبو إسرائيل
Newيونس بن أبي إسحاق السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← يونس بن أبي إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥عبدة بن عبد الرحيم المروزي، أبو سعيد
Newعبدة بن عبد الرحيم المروزي ← النضر بن شميل المازني
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1106 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1106
1106۔ اردو حاشیہ: کھولتے کا مطلب یہ ہے کہ بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھتے، زمین سے بھی اونچا رکھتے اور پیٹ کو رانوں سے اٹھا کر رکھتے۔ سجدہ زمین پر بچھ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اونچا رہے۔ اس مسئلے میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔ بعض فقہاء نے خالص رائے کے ساتھ عورت کے لیے مینڈک کی طرح زمین سے چمٹ کر سجدہ کرنا تجویز کیا ہے، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ دین کسی کی رائے کی بنیاد پر نہیں بلکہ وحی کی بنیاد پر قائم ہوا ہے، اس لیے صراحتاً منقول چیز کے مقابلے میں رائے کا استعمال مذموم اور ایسا قول مردود ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کی تالیف کیا مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے؟ طبع دارالسلام۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1106]