🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب : التجافي في السجود
باب: سجدہ میں بازو کو پہلو سے الگ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1110
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 46 (496، 497)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (898)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (880)، (تحفة الأشراف: 18083)، مسند احمد 6/331، 332، 335، سنن الدارمی/الصلاة 79 (1369، 1370، 1371)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1148 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥يزيد بن الأصم العامري، أبو عوف
Newيزيد بن الأصم العامري ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥عبيد الله بن الأصم العامري
Newعبيد الله بن الأصم العامري ← يزيد بن الأصم العامري
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبيد الله بن الأصم العامري
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1110
إذا سجد جافى يديه حتى لو أن بهمة أرادت أن تمر تحت يديه مرت
سنن النسائى الصغرى
1148
إذا سجد خوى بيديه حتى يرى وضح إبطيه من ورائه وإذا قعد اطمأن على فخذه اليسرى
صحيح مسلم
1107
إذا سجد لو شاءت بهمة أن تمر بين يديه لمرت
صحيح مسلم
1108
إذا سجد خوى بيديه يعني جنح حتى يرى وضح إبطيه من ورائه وإذا قعد اطمأن على فخذه اليسرى
صحيح مسلم
1109
إذا سجد جافى حتى يرى من خلفه وضح إبطيه
سنن أبي داود
898
إذا سجد جافى بين يديه حتى لو أن بهمة أرادت أن تمر تحت يديه مرت
سنن ابن ماجه
880
إذا سجد جافى يديه فلو أن بهمة أرادت أن تمر بين يديه لمرت
مسندالحميدي
316
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد لو أرادت بهمة أن تمر من تحته لمرت مما يجافي
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1110 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1110
1110۔ اردو حاشیہ:
➊ ہاتھوں کو پہلوؤں سے خوب دور رکھنا چاہیے، اسی طرح پیٹ کو رانوں سے اٹھا کر رکھنا چاہیے۔
➋ یہ ہیئت خشوع و خضوع اور تواضع کے زیادہ قریب ہے۔
➌ امہات المؤمنین کی فضیلت کہ انہوں نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ عبادت کو بغور دیکھا اور سمجھا، بعد ازاں امت تک ایسے واضح انداز سے پہنچایا کہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہا……… رضي اللہ عنھن………
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1110]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1148
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی کیفیت کا بیان؟
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1148]
1148۔ اردو حاشیہ: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں بائیں ران پر بیٹھنا مسنون ہے۔ یہ حکم عام ہے اور نماز کے تمام جلسات کو شامل ہے، سوائے اس جلسے کے جسے دلیل کے ساتھ مستثنیٰ کیا گیا ہو جیسا کہ آخری تشہد ہے۔ دوسری روایت سے اس کا استثنا ثابت ہے اور اس میں تورک مسنون ہے، یعنی بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے گزار کر بائیں سرین پر بیٹھنا۔ امام صاحب کا اس حدیث سے استدلال واضح ہے کہ دو سجدوں کے درمیان بائیں ران پر بیٹھنا چاہیے کیونکہ یہ جلسہ بھی ان جلسات میں سے ہے جس کے بارے میں کوئی خاص روایت وارد نہیں ہوئی، سوائے اس روایت کے، لہٰذا اس روایت پر عمل کرتے ہوئے دو سجدوں کے درمیان بائیں ران پر بیٹھنا چاہیے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت (536) میں ایڑیوں پر بیٹھنے کو مسنون قرار دیا گیا ہے اور علمائے کرام نے اس سے دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا مراد لیا ہے۔ اس اعتبار سے وہ روایت اس روایت کے خلاف ہے۔ ان کے درمیان تطبیق اس طرح ہے کہ دو سجدوں کے درمیان دونوں طرح بیٹھنا درست ہے لیکن پہلا طریقہ افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر عمل یہی ہے۔ بخلاف آخری تشہد کے کہ اس میں دونوں طرح درست نہیں بلکہ تورک ہی مسنون ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہی ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید دیکھیے حدیث نمبر: 1106، 1107۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1148]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث880
نماز میں سجدے کا بیان۔
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 880]
اردو حاشہ:
فائدہ:
سجدہ کرتےوقت بازو پہلووں سے اور پیٹ رانوں سے الگ ہونا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 880]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:316
فائدہ:
اس حدیث میں سجدے کی کیفیت کا بیان ہے کہ سجدہ میں پیٹ کو اس قدر رانوں سے جدا رکھنا چاہیے کہ اگر نیچے سے بکری کا بچہ بھی گزرنا چا ہے تو گزر جائے۔ مرد وعورت کے سجدہ کرنے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 316]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1107
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا (گزر سکتا) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1107]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو بغلوں سے اس قدر دور رکھتے تھے کہ نیچے سے بکری کا بچہ گزر سکتا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1107]