سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. باب : نوع آخر
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
حدیث نمبر: 1133
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ يَقُولُ:" فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً ثُمَّ سُورَةً فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا، پہلے آپ نے مسواک کی، پھر وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة»، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، پھر ایک اور سورۃ پڑھی، آپ نے اسی طرح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1133]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لیے اٹھا، آپ نے سب سے پہلے مسواک فرمائی اور وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع فرمائی، (سورۂ فاتحہ کے بعد) آپ نے سورة البقرة شروع کی، آپ جب بھی کوئی رحمت والی آیت پڑھتے تو رکتے اور رحمت کا سوال فرماتے اور عذاب کی آیت پڑھتے تو رکتے اور عذاب سے پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور اپنے قیام کے برابر رکوع میں ٹھہرے، آپ رکوع میں یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”پاک ہے عظیم قوت، بادشاہی، بزرگی والا اور عظمت کا مالک۔“ پھر آپ نے رکوع کے برابر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں بھی یہی پڑھتے رہے: ”پاک ہے عظیم الشان قوت، بے مثال بادشاہی، بے انتہا بزرگی اور عظمت کا مالک۔“ پھر دوسری رکعت میں آپ نے سورة آل عمران پڑھی، پھر ایک اور سورت، پھر ایک اور سورت اور اس (رکعت) میں بھی آپ نے (رکوع و سجود) ایسے ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1050 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1050
| سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة |
سنن النسائى الصغرى |
1133
| سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة ثم قرأ آل عمران ثم سورة ثم سورة فعل مثل ذلك |
سنن أبي داود |
873
| لا يمر بآية رحمة إلا وقف فسأل ولا يمر بآية عذاب إلا وقف فتعوذ ركع بقدر قيامه يقول في ركوعه سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة سجد بقدر قيامه ثم قال في سجوده مثل ذلك قرأ بآل عمران ثم قرأ سورة سورة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1133 in Urdu
عاصم بن حميد السكوني ← عوف بن مالك الأشجعي