یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب : التكبير للنهوض
باب: اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1156
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ" كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے، تو جب جب جھکتے اور اٹھتے «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب وہ سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتے: قسم اللہ کی، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1156]
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تو جب بھی (رکوع اور سجدے کے لیے) جھکتے اور (سجدے سے) اٹھتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے تو فرماتے: ”اللہ کی قسم! یقیناً میں اپنی نماز میں تم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 115 (785)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، (تحفة الأشراف: 15247)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، مسند احمد 2/236، 502، 527 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1156 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1156
1156۔ اردو حاشیہ: دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنا کھڑے ہونے کے لیے کافی ہے اگرچہ درمیان میں جلسۂ استراحت بھی ہو۔ الگ تکبیر کی ضرورت نہیں کیونکہ جلسۂ استراحت تو معمولی ہوتا ہے، ہاں اگر دوسری رکعت کے آخر میں تشہد کے بعد اٹھیں تو الگ تکبیر کہنی ہو گی کیونکہ وہ الگ رکن ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1156]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1156 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي