سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : رد السلام بالإشارة في الصلاة
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ ابْنِ أَسْلَمَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ لِيُصَلِّيَ فِيهِ , فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ , فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (وہ آپ کے ساتھ تھے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1188]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے۔ کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کہنے لگے۔ میں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیونکہ وہ آپ کے ساتھ تھے، کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے جب آپ کو سلام کہا جاتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1017)، (تحفة الأشراف: 4967) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1188
| كيف كان النبي يصنع إذا سلم عليه قال كان يشير بيده |
جامع الترمذي |
368
| كيف كان النبي يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه وهو في الصلاة قال كان يشير بيده |
سنن أبي داود |
927
| كيف رأيت رسول الله يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه وهو يصلي |
بلوغ المرام |
177
| كيف رايت النبي يرد عليهم حين يسلمون عليه وهو يصلي؟ قال: يقول هكذا وبسط كفه |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1188 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي