پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الرخصة في الالتفات في الصلاة يمينا وشمالا
باب: نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1202]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں دیکھا کرتے تھے مگر اپنی گردن موڑ کر پچھلی طرف نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 296 (الجمعة 60) (587)، (تحفة الأشراف: 6014)، مسند احمد 1/275، 304 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1202
| يلتفت في صلاته يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه خلف ظهره |
جامع الترمذي |
587
| يلحظ في الصلاة يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه خلف ظهره |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1202 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1202
1202۔ اردو حاشیہ: یہاں کنکھیوں سے دیکھنا مراد ہے جس سے چہرہ قبلہ رخ سے نہیں ہٹتا۔ اگر منہ موڑ کر دیکھنا مراد ہو تو یہ پہلے دور کی بات ہو گی، اب اس کی اجازت نہیں کیونکہ «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [المؤمنون: 2: 23] کے خلاف ہے۔ منہ موڑٗنے سے گردن مڑے گی جو کہ جائز نہیں۔ ضرورت کے تحت کنکھیوں سے دیکھنا فرض نماز میں بھی ہو سکتا ہے اور نفل میں بھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1202]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 587
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (گردن موڑے بغیر) ترچھی نظر سے دائیں اور بائیں دیکھتے تھے اور اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں پھیرتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 587]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (گردن موڑے بغیر) ترچھی نظر سے دائیں اور بائیں دیکھتے تھے اور اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں پھیرتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 587]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ مخالفت آگے آ رہی ہے،
اور مخالفت یہ ہے کہ وکیع نے اپنی سند میں ”عن بعض أصحاب عكرمة“ کہا ہے،
یعنی سند میں دو راوی ساقط ہیں۔
1؎:
یہ مخالفت آگے آ رہی ہے،
اور مخالفت یہ ہے کہ وکیع نے اپنی سند میں ”عن بعض أصحاب عكرمة“ کہا ہے،
یعنی سند میں دو راوی ساقط ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 587]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1202 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي