🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : التنحنح في الصلاة
باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ:" كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ , فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ , فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي , وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ".
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے لیے خصوصی مرتبہ و مقام تھا جو کسی دوسرے کا نہ تھا۔ میں ہر رات سحری کے وقت آپ کے پاس جاتا اور کہتا: «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ» اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں واپس گھر آجاتا ورنہ آپ کے پاس (اندر) چلا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10292)، مسند احمد 1/85 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥نجي بن سلمة الحضرمي
Newنجي بن سلمة الحضرمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥عبد الله بن نجي الحضرمي، أبو لقمان
Newعبد الله بن نجي الحضرمي ← نجي بن سلمة الحضرمي
مقبول
👤←👥شرحبيل بن مدرك الجعفي
Newشرحبيل بن مدرك الجعفي ← عبد الله بن نجي الحضرمي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← شرحبيل بن مدرك الجعفي
ثقة ثبت
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1212
إذا أتيته استأذنت إن وجدته يصلي فتنحنح دخلت وإن وجدته فارغا أذن لي
سنن النسائى الصغرى
1213
إذا دخلت بالليل تنحنح لي
سنن النسائى الصغرى
1214
إن تنحنح انصرفت إلى أهلي وإلا دخلت عليه
سنن ابن ماجه
3708
إذا أتيته وهو يصلي يتنحنح لي
بلوغ المرام
176
مدخلان فكنت إذا اتيته وهو يصلي تنحنح لي
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1214 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1214
1214۔ اردو حاشیہ: محقق کتاب نے پہلی دو روایتوں کو صحیح اور تیسری کو حسن قرار دیا ہے لیکن دیگر محققین کے نزدیک یہ حکم محل نظر ہے کیونکہ یہ روایات اولاً منقطع، ثانیاً سنداً و متنا مضطرب ہیں، لہٰذا تینوں روایات ضعیف ہیں۔ ان روایات کا مدار عبداللہ بن نجی پر ہے جو کہ متکلم فیہ راوی ہے۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: عبداللہ بن نجی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نہیں سنی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 14/225]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1214]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 176
دوران نماز میں ضرورت کے وقت ایسی آواز نکالنا ...
«. . . وعن علي قال: كان لي من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مدخلان فكنت إذا اتيته وهو يصلي تنحنح لي . . .»
. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے میرے دو اوقات تھے جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے ہوتے تو مجھے مطلع کرنے کے لیے کھنکار دیتے . . . بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب شــروط الصلاة: 176]
لغوی تشریح:
«مَدْخَلَانِ» میم اور خا دونوں پر فتحہ اور درمیان میں واقع دال ساکن ہے۔ آپ کی خدمت میں حاضری کے دو اوقات۔
«تَنَحْنُحِ» حلق میں آواز کو گردش دینا۔ کھنکھارنا۔

فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز میں ضرورت کے وقت ایسی آواز نکالنا جس میں حروف کی ادائیگی نہ ہو نماز کے لیے موجب فساد نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 176]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1214 in Urdu