یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب : نوع آخر
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَتَّابٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي , وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ , وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ وَيُنْفِقُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ , فَقُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرًا , فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِذَلِكَ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ بَعْدَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ (بھی) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، (اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فقیر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال ہے جس سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور غلام آزاد کرتے ہیں۔ (ہم ان کے درجے کو کیسے پہنچ سکتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے“، تینتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور دس دفعہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا کرو۔ تم اس عمل کی بدولت اپنے سے آگے بڑھ جانے والے لوگوں کو جا ملو گے اور ان لوگوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ گے جو تم سے پیچھے ہیں۔“ (یا جو یہ عمل نہیں کرتے۔) [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 186 (410)، (تحفة الأشراف: 6068، 6393) (منکر) (دس بار ’’لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ کا ذکر منکر ہے، منکر ہونے کا سبب خُصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، نیز آخر میں ایک بار ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر بتعشير التهليل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (410) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← مجاهد بن جبر القرشي | ثقة | |
👤←👥خصيف بن عبد الرحمن الجزري، أبو عون خصيف بن عبد الرحمن الجزري ← عكرمة مولى ابن عباس | صدوق سيء الحفظ خلط بآخره ورمي بالإرجاء | |
👤←👥عتاب بن بشير الجزري، أبو سهل، أبو الحسن عتاب بن بشير الجزري ← خصيف بن عبد الرحمن الجزري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← عتاب بن بشير الجزري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1354
| إذا صليتم فقولوا سبحان الله ثلاثا وثلاثين والحمد لله ثلاثا وثلاثين والله أكبر ثلاثا وثلاثين ولا إله إلا الله عشرا فإنكم تدركون بذلك من سبقكم وتسبقون من بعدكم |
جامع الترمذي |
410
| إذا صليتم فقولوا سبحان الله ثلاثا وثلاثين مرة والحمد لله ثلاثا وثلاثين مرة والله أكبر أربعا وثلاثين مرة ولا إله إلا الله عشر مرات فإنكم تدركون به من سبقكم ولا يسبقكم من بعدكم |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1354 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1354
1354۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ دس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» والے الفاظ کے علاوہ باقی روایت کی اصل صحیح ہے کیونکہ مذکورہ روایت اس اضافہ کے بغیر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے، نیز اس اضافے کو شیخ البانی رحمہ اللہ اور شارح سنن النسائی علامہ اتیوبی نے منکر قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت ”دس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے اضافے کے علاوہ صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 424-421/15، و ضعیف سنن النسائي، رقم: 1353]
➋ غنی اور فقر اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہیں مگر مالدار کو اپنا مال خرچ کرنے کا ثواب تو ملے گا جس سے فقیر شخص خرچ نہ کرنے کی وجہ سے محروم رہے گا جیسے لنگڑا اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے مگر وہ بہت سارے ان مفادات ومنافع سے محروم رہتا ہے جن سے دو ٹانگوں والے بہرہ ور ہوتے ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ روایت معنا صحیح ہے، البتہ اس روایت میں دس مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» والے الفاظ کا اضافہ منکر ہے۔
➌ بلندیٔ درجات کے لیے نیک اعمال میں مقابلہ کرنا جائز ہے۔
➍ کسی پر اللہ کے انعامات دیکھ کر رشک کرنا اور اس جیسی نعمتوں کی خواہش کرنا درست ہے۔
➎ کبھی چھوٹے سے عمل کی بنا پر بہت بڑے عمل کی فضیلت اور ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ دس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» والے الفاظ کے علاوہ باقی روایت کی اصل صحیح ہے کیونکہ مذکورہ روایت اس اضافہ کے بغیر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے، نیز اس اضافے کو شیخ البانی رحمہ اللہ اور شارح سنن النسائی علامہ اتیوبی نے منکر قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت ”دس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے اضافے کے علاوہ صحیح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 424-421/15، و ضعیف سنن النسائي، رقم: 1353]
➋ غنی اور فقر اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہیں مگر مالدار کو اپنا مال خرچ کرنے کا ثواب تو ملے گا جس سے فقیر شخص خرچ نہ کرنے کی وجہ سے محروم رہے گا جیسے لنگڑا اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے مگر وہ بہت سارے ان مفادات ومنافع سے محروم رہتا ہے جن سے دو ٹانگوں والے بہرہ ور ہوتے ہیں اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ روایت معنا صحیح ہے، البتہ اس روایت میں دس مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» والے الفاظ کا اضافہ منکر ہے۔
➌ بلندیٔ درجات کے لیے نیک اعمال میں مقابلہ کرنا جائز ہے۔
➍ کسی پر اللہ کے انعامات دیکھ کر رشک کرنا اور اس جیسی نعمتوں کی خواہش کرنا درست ہے۔
➎ کبھی چھوٹے سے عمل کی بنا پر بہت بڑے عمل کی فضیلت اور ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1354]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 410
نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 410]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 410]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(دس بار”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ “ کا ذکر منکر ہے،
منکر ہو نے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں،
آخر میں ایک بار ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں مروی ہے)
نوٹ:
(دس بار”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ “ کا ذکر منکر ہے،
منکر ہو نے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں،
آخر میں ایک بار ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں مروی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 410]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1354 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي