🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : التوقيت في ذلك
باب: ان چیزوں کو چھوڑے رکھنے کی مدت کی تحدید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا". وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 14]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے، زیرِ ناف کے بال مونڈنے اور بغلوں کے بال اکھیڑنے کے لیے یہ مدت مقرر کی ہے کہ ہم چالیس دن سے زائد نہ گزرنے دیں۔ اور ایک دفعہ راوی نے چالیس رات کہا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 14]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 16 (258)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4200)، سنن الترمذی/الأدب 15 (2758)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (295)، (تحفة الأشراف: 1070)، مسند احمد 3/122، 203، 256 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر بن سليمان الضبعي، أبو سليمان
Newجعفر بن سليمان الضبعي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
صدوق يتشيع
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جعفر بن سليمان الضبعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
14
وقت لنا رسول الله في قص الشارب تقليم الأظفار حلق العانة نتف الإبط أن لا نترك أكثر من أربعين يوما
صحيح مسلم
599
وقت لنا في قص الشارب تقليم الأظفار نتف الإبط حلق العانة أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة
جامع الترمذي
2759
وقت لنا في قص الشارب تقليم الأظفار حلق العانة نتف الإبط أن نترك أكثر من أربعين يوما
جامع الترمذي
2758
وقت لهم في كل أربعين ليلة تقليم الأظفار أخذ الشارب حلق العانة
سنن ابن ماجه
295
وقت لنا في قص الشارب حلق العانة نتف الإبط تقليم الأظفار أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 14 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 14
14۔ اردو حاشیہ:
➊ دن اور رات ایک دوسرے کو لازم ہیں، لہٰذا دن کہا جائے یا رات، کوئی فرق نہیں پڑتا۔
➋ چالیس دن آخری حد ہے، ورنہ جب بھی ضرورت محسوس ہو، یعنی طبیعت کو گھن آئے یا گندگی اور میل کچیل جمع ہونے لگے، تو صفائی کی جا سکتی ہے، بال ہوں یا ناخن۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 14]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث295
امور فطرت کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کر دی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 295]
اردو حاشہ:
فائدہ:
جب بھی ضرورت محسوس ہویہ اعمال انجام دے لینے چاہییں لیکن اگر دیر بھی ہوجائے تو چالیس دن سے زیادہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے وگرنہ گناہ گار ہوگا۔
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ چالیس دن سے پہلے صفائی ہی نہ کی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 295]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2759
ناخن کاٹنے اور مونچھیں تراشنے کے وقت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2759]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے اوپر نہ ہو،
یہ مطلب نہیں ہے کہ چالیس دن کے اندر جائز نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2759]

Sunan an-Nasa'i Hadith 14 in Urdu