سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب : ثواب من توضأ كما أمر
باب: مسنون وضو کرنے والے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ؟ قَالَ:" أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ". قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے (زمین) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وضو کیسے کیا جائے؟ (یا وضو کا مقام کیا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو وضو میں اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے اور انہیں اچھی طرح صاف کرتا ہے تو تیری غلطیاں تیرے ناخنوں اور پوروں کے درمیان سے نکل جاتی ہیں، پھر جب تو کلی کرتا ہے اور اپنے نتھنوں کو صاف کرتا ہے، اپنا چہرہ اور کہنیوں سمیت بازو دھوتا ہے، اپنے سر کا مسح کرتا ہے اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو تو اپنی اکثر غلطیوں سے دھل جاتا ہے، پھر اگر تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا چہرہ رکھے (نماز پڑھے) تو اپنی غلطیوں سے اس طرح نکل آتا ہے جیسے آج ہی تجھے تیری ماں نے جنا ہو۔“ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ! غور فرمائیے! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مجلس میں مل جاتا ہے؟“ وہ فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تحقیق میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت قریب آ گئی ہے، میں فقیر نہیں کہ (مال حاصل کرنے کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں، اللہ کی قسم! یقیناً میرے کانوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 10760)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/مسافرین 52 (832)، مسند احمد 4/112، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 147 in Urdu
صدي بن عجلان الباهلي ← عمرو بن عبسة السلمي