سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : نوع آخر
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1492
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قال: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ , قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا عِبَادَهُ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ" وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالُ لَهُ: إِبْرَاهِيمُ , فَقَالَ لَهُ نَاسٌ فِي ذَلِكَ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد پہنچے، اور لوگ (بھی) آپ کی طرف لپکے، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب سورج صاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اور یہ دونوں نہ تو کسی کے مرنے پر گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے پر، تو جب تم انہیں گہنایا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ چیز چھٹ جائے جو تم پر آن پڑی ہے“، اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ (اسی روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تھا، تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ بات کہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1492]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بالائی چادر کو گھسیٹتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ مسجد میں پہنچے، لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہو گئے، آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، جب گرہن ختم ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، اللہ تعالیٰ ان (کے گرہن) کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، انھیں کسی کی موت و حیات کی بنا پر گرہن نہیں لگتا، چنانچہ جب تم ایسی صورت حال دیکھو تو نماز شروع کر دو حتیٰ کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ یہ آپ نے اس لیے ارشاد فرمایا کہ اس دن آپ کا بیٹا (حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ) فوت ہو گیا تھا، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہنا شروع کر دیا تھا (کہ گرہن ان کی وفات کی وجہ سے لگا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1460 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← نفيع بن مسروح الثقفي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة عبد الوارث بن سعيد العنبري ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة ثبت | |
👤←👥عمران بن موسى الليثي، أبو عمرو عمران بن موسى الليثي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1040
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد |
صحيح البخاري |
1048
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد |
صحيح البخاري |
1063
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله إنهما لا يخسفان لموت أحد |
سنن النسائى الصغرى |
1492
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله يخوف الله بهما عباده |
سنن النسائى الصغرى |
1460
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1464
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1503
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله يخوف بهما عباده لا ينكسفان لموت أحد |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1492 in Urdu
الحسن البصري ← نفيع بن مسروح الثقفي