🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : كيف الخطبة في الكسوف
باب: گرہن لگنے پر کس طرح خطبہ دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدْ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَقَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا، تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی تو بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے سر) اٹھایا، پھر قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے (رکوع سے سر) اٹھایا تو لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو سورج سے گرہن چھٹ چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو، اور صدقہ خیرات کرو، اور اللہ عزوجل کو یاد کرو، نیز فرمایا: اے امت محمد! کوئی اللہ تعالیٰ سے زیادہ اس بات پر غیرت والا نہیں کہ اس کا غلام یا اس کی باندی زنا کرے، اے امت محمد! اگر تم لوگ وہ چیز جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1501]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ کھڑے ہوئے اور نماز شروع کر دی تو بہت ہی لمبا قیام فرمایا، پھر رکوع فرمایا تو بہت ہی لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھایا تو بہت لمبا قیام فرمایا مگر یہ پہلے قیام سے کم لمبا تھا، پھر دوسرا رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا مگر یہ پہلے رکوع سے کم لمبا تھا، پھر سجدہ فرمایا (دو دفعہ)، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم لمبا تھا اور پھر رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم لمبا تھا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام فرمایا جو پہلے قیام سے کم لمبا تھا، پھر رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا جو پہلے رکوع سے کم لمبا تھا، پھر سجدے فرمائے اور نماز سے فارغ ہوئے تو گرہن ختم ہو چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی عظمت کی دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت و حیات کی بنا پر بے نور نہیں ہوتے، لہٰذا جب تم یہ حالت دیکھو تو نماز پڑھو، صدقات کرو اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ اور فرمایا: اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کسی کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت نہیں آتی اس بات پر کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم وہ باتیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17092) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1177
الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته
صحيح مسلم
2089
الشمس والقمر من آيات الله لا ينخسفان لموت أحد
صحيح مسلم
2091
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد
صحيح مسلم
2096
الشمس والقمر لا يكسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن أبي داود
1191
الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته
صحيح البخاري
1044
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته
صحيح البخاري
1058
الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته لكنهما آيتان من آيات الله يريهما عباده
سنن ابن ماجه
1263
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته
صحيح البخاري
3203
آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن النسائى الصغرى
1473
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن النسائى الصغرى
1471
الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن النسائى الصغرى
1475
الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن النسائى الصغرى
1501
الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته
سنن النسائى الصغرى
1498
الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته
مسندالحميدي
179
عايذ بالله من ذلك
مسندالحميدي
180
Sunan an-Nasa'i Hadith 1501 in Urdu