الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : نوع آخر من صلاة الكسوف
باب: سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1471
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، رَكَعَ الثَّالِثَةَ ثُمَّ سَجَدَ، حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ يُغْشَى عَلَيْهِمْ، حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ , يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ اللَّهُ أَكْبَرُ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنْ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُكُمْ بِهِمَا، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْجَلِيَا".
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑ گئے تھے، آپ جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، اور جب سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: ”سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہو جائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 261 (1177)، (تحفة الأشراف: 16323)، مسند احمد 6/76 (شاذ) (تین رکوع کا تذکرہ شاذ ہے، محفوظ بات دو رکوع کی ہے، خود عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، دیکھئے حدیث رقم: 1473)۔»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ عنها في كل ركعة ركوعان
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1177
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح مسلم |
2089
| الشمس والقمر من آيات الله لا ينخسفان لموت أحد |
صحيح مسلم |
2091
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد |
صحيح مسلم |
2096
| الشمس والقمر لا يكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن أبي داود |
1191
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
1044
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
1058
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته لكنهما آيتان من آيات الله يريهما عباده |
سنن ابن ماجه |
1263
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
3203
| آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1473
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1471
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1475
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1501
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1498
| الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته |
مسندالحميدي |
179
| عايذ بالله من ذلك |
مسندالحميدي |
180
|
عبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق