🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : صلاة القاعد في النافلة وذكر الاختلاف على أبي إسحاق في ذلك
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ".
عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (732)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (956)، (تحفة الأشراف: 16214)، مسند احمد 6/171، 218 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فيه نصب
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← عبد الله بن شقيق العقيلي
ثقة
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن المقدام العجلي، أبو الأشعث
Newأحمد بن المقدام العجلي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1658 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1658
1658۔ اردو حاشیہ: امام نسائی رحمہ اللہ کا اس روایت کو باربار (چھ بار) ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ بعض راویوں نے یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام سے بیان کی ہے اور بعض نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے۔ بادی النظر میں یہ کسی راوی کی غلطی لگتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ روایت دونوں سے منقول ہو اور مؤخرالذکر یہی بات ہی درست ہے۔ واللہ اعلم۔ نیچے سند میں بھی اختلاف ہے جو سند کو بغور دیکھنے سے سمجھ میں آسکتا ہے اور حل بھی ہو سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1658]