یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب : التسبيح بعد الفراغ من الوتر وذكر الاختلاف على سفيان فيه
باب: وتر سے فراغت کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے کا بیان اور اس کی روایت میں سفیان سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نُعَيْمٍ أَثْبَتُ عِنْدَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَمِنْ قَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَثْبَتُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثُمَّ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثُمَّ أَبُو نُعَيْمٍ، ثُمَّ الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ زُبَيْدٍ , فَقَالَ: يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ وَيَرْفَعُ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، (جریر کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، سورہ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے، پھر جب سلام پھیرنے کے بعد اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ پڑھتے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ابونعیم، محمد بن عبید اور امام قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں۔ ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے شاگرد اس حدیث میں ثقاہت کے لحاظ سے یہ ترتیب رکھتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان، عبداللہ بن مبارک، وکیع بن جراح، عبدالرحمن بن مہدی، ابونعیم اور اسود۔ واللہ أعلم۔ جریر بن حازم نے بھی اس حدیث کو زبید سے بیان کیا ہے، انہوں نے یوں کہا ہے کہ تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو لمبا بھی کیا اور بلند بھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 1753 in Urdu
سعيد بن عبد الرحمن الخزاعي ← عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي