سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ: التَّسْبِيحِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْوِتْرِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ فِيهِ
باب: وتر سے فراغت کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے کا بیان اور اس کی روایت میں سفیان سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَيَقُولُ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1751]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَيَقُولُ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ , خَالَفَهُمَا أَبُو نُعَيْمٍ فَرَوَاهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدٍ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابونعیم نے ان دونوں کی یعنی قاسم اور محمد بن عبید کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے سفیان سے، اور سفیان نے زبید سے، زبید نے ذر سے، اور ذر نے سعید بن عبدالرحمٰن ابزیٰ سے روایت کیا ہے، (یعنی سند میں ایک راوی ”ذر“ کا اضافہ کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1752]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کے ساتھ وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ فرماتے تھے۔ ابونعیم نے ان دونوں (قاسم اور محمد بن عبید) کی مخالفت کی ہے اور اس روایت کو عن سفیان عن زبید عن ذر عن سعید کی سند سے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نُعَيْمٍ أَثْبَتُ عِنْدَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَمِنْ قَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَثْبَتُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثُمَّ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثُمَّ أَبُو نُعَيْمٍ، ثُمَّ الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ زُبَيْدٍ , فَقَالَ: يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ وَيَرْفَعُ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، (جریر کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، سورہ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے، پھر جب سلام پھیرنے کے بعد اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ پڑھتے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ابونعیم، محمد بن عبید اور امام قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں۔ ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے شاگرد اس حدیث میں ثقاہت کے لحاظ سے یہ ترتیب رکھتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان، عبداللہ بن مبارک، وکیع بن جراح، عبدالرحمن بن مہدی، ابونعیم اور اسود۔ واللہ أعلم۔ جریر بن حازم نے بھی اس حدیث کو زبید سے بیان کیا ہے، انہوں نے یوں کہا ہے کہ تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو لمبا بھی کیا اور بلند بھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَإِذَا سَلَّمَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَرْفَعُ".
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار میں آواز کھینچتے اور بلند کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1754]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے۔ اور جب سلام پھیرتے تو تین دفعہ «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ فرماتے اور تیسری دفعہ اپنی آواز کو کھینچتے تھے اور مزید بلند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" , أَرْسَلَهُ هِشَامٌ،
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا، ان کی روایت آگے آ رہی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1755]
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» کہتے۔ (قتادہ کے شاگرد) ہشام نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے (یعنی براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اس میں صحابی عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہوں نے «عن أبیہ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1756]
حضرت سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر (میں یہ تین سورتیں) پڑھتے تھے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1739 (صحیح) (سند میں ارسال ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے جیسا کہ اوپر گزرا)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن