🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب : الاختلاف على إسماعيل بن أبي خالد
باب: اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ مَرْوَانَ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار پڑھیں، اسے آگ نہیں چھوئے گی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎، صحیح مروان کی حدیث ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا، اسے آگ نہ چھوئے گی۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث غلط ہے۔ صحیح حدیث مروان کی ہے جو وہ سعید بن عبدالعزیز سے بیان کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، (تحفة الأشراف: 15858)، مسند احمد 6/426 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ اس سے پہلے والی حدیث کی طرف ہے اس لیے بہتر یہ تھا کہ امام نسائی کا یہ قول حدیث رقم: ۱۸۱۷ کے بعد ذکر کیا جاتا، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ مراد عبداللہ شعیشی کے طریق سے وارد حدیث ہو ایسی صورت میں یہ کلام اپنے محل ہی میں ہو گا۔ ۲؎: یعنی حدیث رقم: ۱۸۱۶، جسے وہ سعید بن عبدالعزیز سے روایت کر رہے ہیں، اس میں عنبسہ بن ابی سفیان ہیں جب کہ اس میں محمد بن ابی سفیان ہیں جو غلط ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رملة بنت أبي سفيان الأموية، أم حبيبةصحابي
👤←👥محمد بن أبي سفيان القرشي، أبو عثمان، أبو الوليد، أبو عامر
Newمحمد بن أبي سفيان القرشي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية
له رؤية
👤←👥عبد الله بن مهاجر الشعيثي
Newعبد الله بن مهاجر الشعيثي ← محمد بن أبي سفيان القرشي
مقبول
👤←👥محمد بن عبد الله الشعيثي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الشعيثي ← عبد الله بن مهاجر الشعيثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سلم بن قتيبة الشعيري، أبو قتيبة
Newسلم بن قتيبة الشعيري ← محمد بن عبد الله الشعيثي
ثقة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← سلم بن قتيبة الشعيري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1813
من ركع أربع ركعات قبل الظهر أربعا بعدها حرم الله لحمه على النار
سنن النسائى الصغرى
1815
من صلى أربع ركعات قبل الظهر أربعا بعدها حرمه الله على النار
سنن النسائى الصغرى
1816
من ركع أربع ركعات قبل الظهر أربعا بعدها حرمه الله على النار
سنن النسائى الصغرى
1817
من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر أربع بعدها حرمه الله على النار
سنن النسائى الصغرى
1818
من صلى أربعا قبل الظهر أربعا بعدها لم تمسه النار
جامع الترمذي
427
من صلى قبل الظهر أربعا بعدها أربعا حرمه الله على النار
جامع الترمذي
428
من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر أربع بعدها حرمه الله على النار
سنن أبي داود
1269
من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر أربع بعدها حرم على النار
سنن ابن ماجه
1160
من صلى قبل الظهر أربعا بعدها أربعا حرمه الله على النار
بلوغ المرام
284
من صلى اثنتي عشرة ركعة في يومه وليلته بني له بهن بيت في الجنة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1818 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1818
1818۔ اردو حاشیہ:
➊ بعض محققین نے کہا ہے کہ یہ الفاظ حدیث نمبر 1817 کے بعد ہونے چاہیں، یعنی حدیث نمبر 1817 میں محمد بن ابوسفیان کا ذکر درست نہیں ہے، ان کے بجائے عنبسہ بن ابی سفیان درست ہے جیسا کہ مروان کی حدیث (نمبر 1815، 1816) میں ہے۔ اگر یہ الفاظ یہیں درست ہوں (یعنی حدیث نمبر 1818 کے بعد) تو، پھر یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کی مذکورہ سند (عبداللہ شعیثی عن عنبسہ) کے بجائے مروان والی حدیث کی سند (مکحول عن عنبسہ) ذکر ہونی چاہیے۔ واللہ أعلم۔
➋ امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی مختلف (24) سندیں ذکر کی ہیں۔ بعض راویوں کی غلطیاں ظاہر کرنے کے لیے ان کو یہ طویل تکرار کرنی پڑی، مثلاً: بعض راویوں نے اسے بجائے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کر دیا، بعض نے حرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کر دیا۔ لیکن یہ ان کی غلطی ہے۔ یہ روایت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔ اسی طرح صحیح یہ ہے ککہ یہ روایت مرفوع ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ بعض راویوں نے اسے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا اپنا قول بیان کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی سندوں میں کچھ اختلافات ہیں جو تمام اسانید کو بغور دیکھنے سے سمجھ میں آسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں فائدہ حدیث نمبر 1780 مدنظر رکھا جائے تاکہ کچھ غلط فہمیوں سے بچاؤ ہو سکے۔
➌ سنن مؤکدہ کی پابندی کے ساتھ ادائیگی سے جنت کا دخول اولیں یا آگ کی حرمت مشروط ہے کہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو جو ناقابل معافی ہو، مثلاً: شرک۔ اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی کے بعد بھی اتنی نیکیاں بچ جائیں جو اولیں طور پر جنت میں لے جائیں، نیز یہ ثواب اس کام کا انفرادی ثواب ہے، جب ساتھ گناہ بھی ہوں تو ظاہر ہے ان کی مقررہ سزا سے بھی مفر نہیں۔ مجموعی طور پر ثواب غالب آ جائے یا عذاب، یہ الگ باتہو گی۔ بعض گناہ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ٰنے قسم کھا رکھی ہے کہ ضرور جہنم میں لے جائیں گے، لہٰذا آخری فیصلہ تمام نیکیوں اور برائیوں کی جزا و سزا کو ملانے ہی سے ہو گا، نیز کسی ایک حدیث کو باقی احادیث پر غالب نہیں کیا جا سکتا ببلکہ تمام احادیث کو ملا کر ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔
➍ آخری احادیث میں صرف ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ حدیث پہلی احادیث سے مختلف ہے جن میں بارہ رکعات کا ذکر ہے۔ بارہ رکعات سنن پڑھنے پر دخول جنت کی ضمانت دی گئی ہے اور ظہر کی نماز سے پہلے اور بعد چار رکعات پڑھنے پر آگ کی حرمت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ دونوں الگ الگ معانی ہیں۔
➎ عشاء اور عصر کی نمازوں سے قبل چار، چار رکعات کا ذکر بھی بعض روایات میں ہے اور ان کی فضیلت بھی وارد ہے جبکہ عشاء سے قبل چار رکعات سنت کی روایت ضعیف ہے۔ عصر سے قبل چار رکعات کی ادائیگی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا ہے۔ غرض یہ چار رکعات ضروری یا مؤکد نہیں صرف مستحب ہیں۔ واللہ أعلم۔
➏ امام نسائی رحمہ اللہ نے تو بارہ رکعات والی روایات ہی ذکر فرمائی ہیں۔ بعض روایات میں بارہ کے بجائے دس رکعات پر یہی ثواب بیان کیا گیا ہے۔ ان میں ظہر سے پہلے چار کے بجائے دو رکعات کا ذکر ہے۔ گویا کبھی کبھار اگر دو ہی پر اکتفا کر لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، مگر معمول چار رکعات ہی ہونا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1818]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 284
نفل نماز کا بیان
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو شخص شب و روز میں بارہ رکعت نوافل پڑھے اس کیلئے ان کے بدلہ میں جنت میں گھر تعمیر کر دیا گیا۔ (مسلم) اور ایک روایت میں «تطوعا» بھی ہے (نفل کے طور پر پڑھے) اور ترمذی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور اتنا اضافہ بھی ہے کہ چار رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت بعد میں اور دو رکعت نماز مغرب کے بعد اور دو رکعت عشاء کے بعد اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔ اور پانچواں یعنی احمد ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت کیا ہے کہ جس شخص نے ظہر کی پہلی چار رکعتوں کی حفاظت کی اور چار رکعت بعد میں باقاعدگی سے پڑھتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آتش جہنم پر حرام کر دیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 284»
تخریج:
«أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب فضل السنن الراتبة، قبل الفرائض وبعد هوهن، حديث: 728، وحديث: "أربعا قبل الظهر" أخرجه الترمذي، الصلاة، حديث:415 وهو حديث صحيح، وحديث"من حافظ علي أربع قبل الظهر" أخرجه أبوداود، التطوع، حديث:1269، والترمذي، الصلاة، حديث:427، والنسائي، قيام الليل، حديث:1817، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1160، وأحمد:6 /326 وهو حديث صحيح.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شب و روز میں بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں۔
ان پر التزام کرنا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اہتمام فرمایا ہے۔
2.ظہر کی فرض نماز کے بعد دو کی بھی گنجائش ہے اور چار کی بھی۔
چار کی فضیلت بڑی بیان ہوئی ہے۔
اور اگر کوئی چھ پڑھ لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔
راویٔ حدیث:
«ام سلمہ رضی اللہ عنہا» ‏‏‏‏ ان کا نام رملہ تھا۔
ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔
قدیم الاسلام تھیں اور ہجرت حبشہ کرنے والوں میں شامل تھیں۔
ان کا شوہر عبیداللہ بن جحش بھی ان کے ساتھ تھا مگر وہ وہاں جا کر عیسائی ہو گیا اور وہیں مر گیا۔
اس کے بعد ۷ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر کے اپنے حرم میں داخل فرما لیا۔
یہ نکاح کے وقت وہیں حبشہ ہی میں تھیں‘ پھر مہاجرین حبشہ کے ساتھ مدینہ تشریف لائیں۔
۴۲ یا ۴۴ یا ۵۰ ہجری میں فوت ہوئیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 284]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1160
ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1160]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا بھی درست ہے دیکھئے: (حدیث: 1140، فائدہ: 2)
ظہر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ (حدیث: 1140)
لیکن پہلے بھی چار اور بعد میں بھی چار رکعت پڑھنا افضل ہے۔

(2)
ظہر کے بعد کی رکعتوں میں سے دو سنت اور دو کو نفل قرار دینا درست نہیں۔
یہ چاروں سنتیں ہیں۔
جس طرح پہلی چاروں سنتیں ہیں۔
حالانکہ اسوقت بھی وہ پڑھی جا سکتی ہیں۔
لیکن اس کی وجہ سے ان میں سے دو کو نفل نہیں کہا جاتا۔

(3)
جہنم پر حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جنت میں چلا جائے گا۔
خواہ اس کے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کرکے اسے جنت میں داخل کردے۔
یاتھوڑی سی سزادے کر پھر جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل کرے۔

(4)
نیکیوں پر اللہ کی رحمت کی اُمید رکھنی چاہیے۔
لیکن اس کے عذاب سے بے خوف ہونا جائز نہیں کیونکہ بندے کو علم نہیں اس کا کونسا عمل قابل قبول ہے۔
اورکون سا نہیں اور قابل قبول اعمال میں سے بھی معلوم نہیں کس کا کتنا ثواب ملے گا۔
تھوڑا یا زیادہ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1160]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 427
سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 427]
اردو حاشہ:
1؎:
اس قسم کی احادیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کی موت اسلام پر آئے گی اور وہ کافروں کی طرح جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا،
یعنی اللہ تعالیٰ اس پر جہنم میں ہمیشہ رہنے کو حرام فرما دے گا،
اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی،
اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہمیشگی کی آگ نہیں چھوئے گی،
مسلمان اگر گنہ گار اور سزا کا مستحق ہو تو بقدر جرم جہنم میں اس کا جانا ان احادیث کے منافی نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 427]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1818 in Urdu