علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : النهى عن البكاء على الميت
باب: میت پر رونا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1850
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ:" الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ" , فَقَالَ عِمْرَانُ: قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1850]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ ”میت کو زندہ لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے“ تو عمران رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10843)، مسند احمد 4/437 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن صبيح الليثي، أبو صبيح عبد الله بن صبيح الليثي ← محمد بن سيرين الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن صبيح الليثي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد محمود بن غيلان العدوي ← أبو داود الطيالسي | ثقة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1850 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي