سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : النياحة على الميت
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ , يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ , لَا تَبْكِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ , وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة النجم آية 38 , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں (بھی) لوگوں کے ساتھ (تعزیت میں) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، (ایک بار) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو (مجھ سے) کہا: دیکھو (یہ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے (اور) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“ (ابن عباس) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے (میں) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں (ایسی بات موجود ہے) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں) فرمایا تھا: ”اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1859]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے کہا: جب (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی) ام ابان فوت ہوئیں تو میں بھی لوگوں کے ساتھ (ان کے گھر) گیا۔ مجھے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا۔ عورتیں رونے لگیں تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ انہیں رونے سے نہیں روکتے؟ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر بعض (مخصوص قسم کے) رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسی ہی بات کہتے تھے۔ میں ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں نکلا حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا: جاؤ، دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں؟ میں گیا تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے تھے۔ میں نے واپس آکر بتایا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں۔ فرمایا: صہیب کو میرے پاس لاؤ، پھر ہم جب مدینہ منورہ آئے تو (چند دن بعد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھ کر رونے لگے اور کہنے لگے: ہائے میرے پیارے بھائی! ہائے میرے پیارے بھائی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صہیب! نہ رو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر بعض (مخصوص قسم کے) رونے کی بنا پر عذاب دیا جاتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی تو فرمانے لگیں: اللہ کی قسم! تم یہ حدیث کسی جھوٹے اور جھوٹ کی طرف منسوب اشخاص سے بیان نہیں کرتے لیکن سننے میں غلطی لگ جاتی ہے۔ تمہارے لیے قرآن مجید میں اس کا شافی حل موجود ہے ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 38] کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اضافہ فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1859 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1859
1859۔ اردو حاشیہ: تفصیلی بحث پیچھے حدیث نمبر 1851 میں گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1859 in Urdu
عمر بن الخطاب العدوي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق