🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : النعى
باب: موت کی خبر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1879
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع (کسی آدمی کے ذریعہ) ان کی (موت) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 4 (1246)، والجھاد 7 (2798)، 183 (3063)، والمناقب 25 (3630)، وفضائل الصحابة 25 (3757)، والمغازي 44 (4262)، (تحفة الأشراف: 820)، مسند احمد 3/113، 117 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← حميد بن هلال العدوي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4262
نعى زيدا وجعفرا وابن رواحة للناس قبل أن يأتيهم خبرهم فقال أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذ جعفر فأصيب ثم أخذ ابن رواحة فأصيب وعيناه تذرفان أخذ الراية سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم
صحيح البخاري
3630
نعى جعفرا وزيدا قبل أن يجيء خبرهم وعيناه تذرفان
سنن النسائى الصغرى
1879
نعى زيدا وجعفرا قبل أن يجيء خبرهم فنعاهم وعيناه تذرفان
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1879 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1879
1879۔ اردو حاشیہ:
➊ موت کی اطلاع دینا درست ہے۔ جبکہ ایک حدیث میں نعي سے روکا گیا ہے۔ دیکھیے: (مسند أحمد: 385/5) دراصل اس سے مراد جاہلیت کے دور کی طرح موت کا اعلان ہے جو صرف فخر و مباہات کے لیے بڑے بڑے جھوٹے سچے القابات کے ذریعے سے کیا جاتا تھا، اس کا مقصد اطلاع کے بجائے فخر تھا اور وہ باقاعدہ پیش ور حضرات کے ذریعے سے بڑے اہتمام اور خرچ کے ساتھ کیا جاتا تھا۔
➋ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ صحابہ شام میں شہیدہوئے اور آپ نے مدینہ میں ان کی خبر دے دی۔ شام سے ان کی شہادت کی خبر بعد میں آئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1879]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3630
3630. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر اور حضرت زید ؓ کے شہید ہونے سے پہلے ہی ان کے شہید ہونے کی خبر دی۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3630]
حدیث حاشیہ:
آپ کا رسول برحق ہونا بایں طور ثابت ہواکہ آپ نے وحی کے ذریعہ سے ایک دور دراز مقام پر ہونے والا واقعہ اطلاع آنے سے پہلے ہی بیان فرمایا۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
اگر اہل بدعت کے خیال کے مطابق آپ عالم الغیب ہوتے تو سفر جہاد پر جانے سے پہلے ہی ان کو روک دیتے اور موت سے بچالیتے مگر آپ غیب دان نہیں تھے۔
آیت شریفہ }: 188﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾(قرآن)
کا یہی مطلب ہے۔
وحی الٰہی سے خبردینا یہ امر دیگر ہے اس کو غیب دانی سے تعبیر کرنا ان لوگوں کاکام ہے جن کو فہم وفراست سے ایک ذرہ بھی نصیب نہیں ہوا ہے، کتب فقہ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب داں جان کر کسی امر پر گواہ بنائے تو اس کی یہ حرکت اسے کفر تک پہنچادیتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3630]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4262
4262. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم کی شہادت کی خبر اس وقت اپنے صحابہ کرام کو دی جب ان کے متعلق دیگر ذرائع سے کوئی اطلاع نہیں آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زید نے اسلامی جھنڈا اٹھایا۔ وہ شہید کر دیے گئے تو پھر جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی جام شہادت نوش کر چکے تو پھر ابن رواحہ ؓ نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ اس دوران میں آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حتی کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار(خالد بن ولید ؓ) نے جھنڈا پکڑ لیا۔ پھر اللہ نے اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4262]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ میں شریک نہ تھے۔
آپ یہ سب خبریں مدینہ میں بیٹھ کر صحابہ ؓ کو دے رہے تھے اور آپ کو بذیعہ وحی یہ سارے حالات معلوم ہو گئے تھے۔
آپ غیب داں نہیں تھے۔
واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت جعفر ؓ اس جنگ میں دائیں ہاتھ میں جھنڈا تھامے ہوئے تھے۔
دشمنوں نے وہ ہاتھ کاٹ ڈالا تو انہوں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا لے لیا۔
دشمنوں نے اس کو بھی کاٹ ڈالا وہ شہید ہو گئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے ان کو جنت میں دو بازو پرندے کی طرح کے بخش دیئے ہیں وہ ان سے جنت میں جہاں چاہیں اڑتے پھرتے ہیں۔
لفظ طیار کے معنی اڑنے والے کے ہیں۔
اسی سے آپ کو جعفر طیار ؓ کے نام سے پکارا گیا رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
حضرت جعفر ؓ کے دو بیٹے عبد اللہ اور محمد نامی تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بڑی شفقت فرمائی۔
موسی بن عقبہ نے مغازی میں ذکر کیا ہے کہ یعلی بن امیہ اہل موتہ کی خبر لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو موتہ والوں کا حال مجھ کو سناؤ ورنہ میں خود ہی تم کو ان کا پورا حال سنا دیتا ہوں۔
(جو اللہ نے تمہارے آنے سے پہلے مجھ کو وحی کے ذریعہ بتلادیا ہے)
چنانچہ خود آپ نے ان کا پورا حال بیان فرمادیا جسے سن کر یعلی بن امیہ کہنے لگے کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے کہ آپ نے اہل موتہ کے حالات سنانے میں ایک حرف کی بھی کمی نہیں چھوڑی ہے۔
آپ کا بیان حرف بہ حرف صحیح ہے۔
(قسطلانی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4262]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3630
3630. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر اور حضرت زید ؓ کے شہید ہونے سے پہلے ہی ان کے شہید ہونے کی خبر دی۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3630]
حدیث حاشیہ:

جنگ موتہ میں مسلمان کفار سے جنگ کر رہے تھے عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد حضرت زید بن حارثہ اور حضرت جعفر طیار ؓ نے یکے بعد دیگرے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور شہید ہو گئے۔

یہ حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے کہ آپ کے خبر دینے کے مطابق ان دونوں حضرات نے جام شہادت نوش کیا۔
اس کی تفصیل غزوہ موتہ میں آئے گی 3۔
بہر حال آپ نے وحی کے ذریعے سے ایک دور دراز مقام پر ہونے والا واقعہ اطلاع آنے سے پہلے ہی بیان کردیا۔
اہل بدعت کے خیال کے مطابق اگر آپ غیب دان ہوتے تو سفر جہاد پر جانے سے پہلے ہی ان کو روک لیتے اور انھیں موت سے بچا لیتے مگر آپ غیب دان نہیں تھے وحی الٰہی سے کسی غیب کی خبر دینا امر دیگر است۔
اسے غیب دانی سے تعبیر کرنا ان لوگوں کاکام ہے جنھیں فہم فراست سے ایک ذرہ بھی نصیب نہیں ہوا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3630]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4262
4262. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنھم کی شہادت کی خبر اس وقت اپنے صحابہ کرام کو دی جب ان کے متعلق دیگر ذرائع سے کوئی اطلاع نہیں آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زید نے اسلامی جھنڈا اٹھایا۔ وہ شہید کر دیے گئے تو پھر جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی جام شہادت نوش کر چکے تو پھر ابن رواحہ ؓ نے جھنڈا اٹھا لیا۔ وہ بھی شہید کر دیے گئے۔ اس دوران میں آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حتی کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار(خالد بن ولید ؓ) نے جھنڈا پکڑ لیا۔ پھر اللہ نے اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4262]
حدیث حاشیہ:

حضرت خالد بن ولید ؓ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تھے اور جب انھوں نے حضر ت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کے بعد اسلامی جھنڈا پکڑا تو اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کاحکم دیا، وہ پیچھے ہٹ کر پھر آگے بڑھے۔
رومیوں نے سمجھا کہ انھیں تازہ کمک(مدد)
پہنچ گئی ہے، اس لیے وہ آگے بڑھے ہیں۔
اس موقع پر گھمسان کی جنگ ہوئی اور بالآخر فتح مسلمانوں کے حصے میں آئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق یوں دعا فرمائی:
اے اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما۔
(السنن الکبری للنسائی: 69/5۔
)
اس وقت سے حضرت خالد بن ولید ؓ کو سیف اللہ(اللہ کی تلوار)
کہا جاتا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ کسی کو مشروط سپہ سالار یا امیر بنانا جائزہے اور یہ بھی واضح ہواکہ بوقت ضرورت حاکم اعلیٰ کی اجازت کے بغیر امیر بنانا بھی جائز ہے۔
اس حدیث میں حضرت خالد بن ولید ؓ کی واضح فضیلت ہے۔
(فتح الباري: 642/7۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4262]