🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : السرعة بالجنازة
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال:" شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ السَّرِيرِ , فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ , فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ , وَقَالَ: خَلُّوا , فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ".
عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر (سوار) ملے، جب انہوں نے انہیں (ایسا) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر (سوار) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ (یہ سن کر) خوش ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1913]
حضرت عبدالرحمن بن جوشن بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں حاضر ہوا۔ زیاد (گورنر بصرہ) چارپائی کے آگے آگے چلنے لگا۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے گھریلو رشتے دار اور ان کے غلام (چارپائی کے آگے) چارپائی کی طرف منہ کر کے الٹے پاؤں چلنے لگے اور وہ (جنازہ اٹھانے والوں کو) کہتے تھے: آہستہ آہستہ چلو، اللہ تعالیٰ تمہاری نیکی میں برکت فرمائے۔ تو اس طرح وہ گویا رینگ رینگ کر (یعنی بہت آہستہ) چل رہے تھے، حتیٰ کہ جب ہم راستے میں مربد مقام پر پہنچے تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ خچر پر سوار پیچھے سے ہمیں آ ملے، جب انہوں نے ان لوگوں کو ایسا کرتے دیکھا تو ان کی طرف خچر کو دوڑایا اور ان کی طرف کوڑا لہرایا اور فرمایا: راستہ چھوڑ دو (یعنی میت کے آگے سے ہٹ جاؤ)۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کو عزت دی ہے! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں میت کو اٹھا کر تیز تیز چلتے تھے۔ پھر (یہ بات سن کر) سب لوگ مطمئن ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 50 (3183)، (تحفة الأشراف: 11695)، مسند احمد 5/36، 37، 38 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني
Newعبد الرحمن بن جوشن الغطفاني ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة
👤←👥عيينة بن عبد الرحمن الغطفاني، أبو مالك
Newعيينة بن عبد الرحمن الغطفاني ← عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← عيينة بن عبد الرحمن الغطفاني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1913 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1913
1913۔ اردو حاشیہ: مطمئن ہو گئے یعنی اس وضاحت کے بعد سب لوگ اس بات پر مطمئن ہو گئے کہ جنازے کو اٹھا کر تیز تیز چلنا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1913]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1913 in Urdu