🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : السرعة بالجنازة
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1912
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَدَّمْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَتْ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جنازے کو جلدی لے چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے (جلد) اتار پھینکو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، (تحفة الأشراف: 12187)، مسند احمد 2/240، 280 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة
Newأسعد بن سهل الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1911
أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
سنن النسائى الصغرى
1912
أسرعوا بالجنازة فإن كانت صالحة قدمتموها إلى الخير وإن كانت غير ذلك كانت شرا تضعونه عن رقابكم
صحيح البخاري
1315
أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن يك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
صحيح مسلم
2188
أسرعوا بالجنازة فإن كانت صالحة قربتموها إلى الخير وإن كانت غير ذلك كان شرا تضعونه عن رقابكم
صحيح مسلم
2186
أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير لعله قال تقدمونها عليه وإن تكن غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
جامع الترمذي
1015
أسرعوا بالجنازة فإن يكن خيرا تقدموها إليه وإن يكن شرا تضعوه عن رقابكم
سنن أبي داود
3181
أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
سنن ابن ماجه
1477
أسرعوا بالجنازة فإن تكن صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تكن غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
بلوغ المرام
460
‏‏‏‏اسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
مسندالحميدي
1052
أسرعوا بالجنازة، فإن تك صالحة، فخير تقدمونها إليه، وإن تكن سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1912 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1912
1912۔ اردو حاشیہ: گردنوں سے اتار رہے ہو پہلے معنی کی رو سے اس کا مطلب ہے کہ تم اپنی ذمے داری سے فارغ ہو رہے ہو، دوسرا معنی ظاہر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1912]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 460
میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو۔ اس لئے کہ اگر مرنے والا صالح اور نیک آدمی تھا تو اس کے لئے بہتر ہو گا کہ اسے بہتر جگہ کی طرف جلدی لے جاؤ اور اگر دوسرا ہے (برا آدمی ہے) تو اپنی گردن سے اتار کر رکھ دو۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 460]
لغوی تشریح:
«اَسْرِعُوا» چلنے میں جلدی کرو، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کے وقوع کے یقینی ہونے کے بعد میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو۔
«تَضَعُونَهُ» وضع سے ماخوذ ہے جس کے معنی اتار کر رکھ دینے کے ہیں۔ یہ حمل کے مقابلے میں بولا جاتا ہے جس کے معنی اٹھانے کے ہوتے ہیں۔ اور یہ کنایۃ اپنے سے دور کر دینے کے معنی میں مستعمل ہے۔

فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وفات ہو جانے کی بعد میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، دور دراز کے اقارب و احباب کو جمع کرنا اور ان کی آمد کے انتظار میں تاخیر کرنا خلاف سنت ہے، نیز اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے گھر سے دور کسی اور جگہ یا کسی دوسرے ملک میں فوت ہو جاتا ہے تو اسے اپنے ملک میں واپس لانے کے بجائے ادھر ہی دفن کر دینا چاہیے جس ملک میں اس کی وفات ہوئی ہے، مثلاً: اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنے کے لیے سعودی عرب جاتا ہے اور وہاں اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اسے واپس پاکستان لانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے ادھر ہی دفن اقرب الی السنہ ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 460]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1911
جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف (جلد) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم (جلد) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1911]
1911۔ اردو حاشیہ: جنازہ جلدی لے جانے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں:
➊ جنازہ زیادہ دیر تک گھر میں نہ رکھو بلکہ تکفین و تجہیز میں جلدی کرو۔
➋ جنازہ اٹھانے کے بعد تیز تیز چلو۔ بوجھ اٹھانے والا شخص فطری طور پر تیز تیز چلتا ہے، مگر اتنا تیز نہ چلے کہ میت کو جھٹکے لگیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1911]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3181
جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3181]
فوائد ومسائل:
وفات ہوجانے کے بعد میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
دوردراز کے اقارب واحباب کو جمع کرنا اور ان کی آمد کے انتظار میں تاخیر کرنا ایک غیر شرعی اور نامناسب عمل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3181]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1477
جنازہ میں شرکت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1477]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
میت کو غسل دینے کے بعد کفن کرنے میں بلاوجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔

(2)
بعض لوگ دفن کرنے میں اس لئے دیر کردیتے ہیں۔
کہ متوفی کے بعض قریبی رشتہ دار دوسرے شہر یا ملک سے آئیں گے تب دفن کیا جائے گا۔
یہ رواج غلط ہے۔
بعد میں آنے والے قبر پر جا کر میت کے حق میں دعا کریں۔
اورچاہیں تو قبر پر نماز جنازہ ادا کر لیں۔
اس کی دلیل صحیح بخاری کی یہ روایت ہے۔
کہ ایک خاتون مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفائی کیا کرتی تھی۔
ایک رات اس کی وفات ہوگئی۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتکلیف دینا مناسب نہ سمجھا اور اس کا جنازہ پڑھ کر اسے دفن کردیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاتون کی وفات کا علم ہوا تو اس کی قبر پر جا کر جنازہ پڑھا۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، الجنائز، باب الصلاۃ علی القبر بعد ما یدفن، حدیث: 1337)

(3)
جلدی دفن کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے۔
کہ نیک مومن جلد اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے کیونکہ اس کے لئے اس جہاں میں خیر ہی خیر ہے اور بُرا آدمی جتنی جلدی گھر سے نکلے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ دفن کرنے والے اپنے فرض سے جلد سبک دوش ہوجایئں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1477]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1015
جنازہ تیزی سے لے جانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎، اگر وہ نیک ہو گا تو اسے خیر کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر وہ برا ہو گا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر (جلد) رکھ دو گے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1015]
اردو حاشہ: 1؎:
جمہورکے نزدیک امراستحباب کے لیے ہے،
ابن حزم کہتے ہیں کہ وجوب کے لیے ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1015]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1052
1052- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جنازے کو جلدی لے کرجاؤ کیونکہ اگر وہ نیک ہوگا، تو تم ایک بھلائی کی طرف اسے لے کر جاؤ گے اور اگر صورتحال اس کے برعکس ہوئی تو تم اپنی گردن سے ایک برائی کو اتاردو گے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1052]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے فوت ہونے کا یقینی علم ہو جائے تو اس کو دفنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ فوری دفنا دینا چاہیے، بس اتنے لوگوں تک اطلاع دینا ضروری ہے کہ بعض قبر کھودنے کے لیے آ جائیں اور کچھ میت کو غسل دینا شروع کر دیں، اور کچھ میت کو اٹھا کر قبرستان لے جائیں۔
نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ میت بولتی ہے لیکن اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔
یا رب العالمین راقم کو، اور اس کے اساتذہ کو اور اہل و عیال کو روز قیامت خادمین حدیث میں شمار فرما آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1051]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2188
مصنف نے اپنی تین اساتذہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں،وہ کہتےہیں،میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جنازہ لے جاؤ کیونکہ اگر میت نیک ہے تو تم اسے بھلائی کے قریب کر رہے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو تم شرکو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2188]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
میت نیک ہو یا بد اسے ہر صورت میں تیز رفتاری سے لے جانا چاہیے۔
تاکہ وہ جلد اپنے انجام تک پہنچے۔
اور ہم ا پنے فریضہ سے سبکدوش ہوں اس لیے جنازہ کو جلدی لے جانا بالاتفاق مستحب ہے۔
اور ا بن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے۔
جمہور کے نزدیک عام رفتار سے تیزی مراد ہے بھاگنا جائز نہیں ہے لیکن احناف کے نزدیک زیادہ تیز رفتاری مراد ہے۔
یعنی بہت تیزی کرنی چائیے اور آج کل اس بات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر چلنے کی توفیق دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2188]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1315
1315. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جنازے کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جارہے ہو اور اگر براہے تو بری چیز کو اپنی گردنوں سے اتار کر سبکدوش ہو جاؤگے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1315]
حدیث حاشیہ:
(1)
جنازے کو جلدی لے جانے سے مراد دوڑنا نہیں بلکہ عادت سے زیادہ تیز چلنا ہے۔
علماء کے نزدیک ایسا کرنا مستحب ہے، بلکہ پروقار طریقے سے جلدی کی جائے، تیز بھاگنے میں کسی غیر متوقع حادثے کا اندیشہ ہے۔
اس سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کی تکفین میں جلدی کی جائے۔
(2)
البتہ طاعون زدہ، فالج کے مریض اور غشی طاری ہونے سے مرنے والے کے متعلق جلدی نہ کی جائے جب تک اس کے مرنے کی تسلی نہ ہو جائے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے کم از کم ایک دن اور ایک رات انتظار کرنے کا لکھا ہے۔
(فتح الباري: 236/3)
لیکن انتظار کی مذکورہ تحدید محل نظر ہے۔
صرف موت کے وقوع کا یقین ہونا ضروری ہے، خواہ چند گھنٹوں کے بعد ہو جائے۔
بہرحال مرنے کے بعد میت کو زیادہ دیر تک رکھنا درست نہیں اور جنازہ اٹھا کر جلدی جلدی چلنا مستحب ہے۔
اس پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1315]