🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب : النهى عن ذكر الهلكى إلا بخير
باب: مردوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ، فَقَالَ:" لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17862) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
لها رؤية
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← منصور بن صفية القرشي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن إسحاق الحضرمي، أبو إسحاق
Newأحمد بن إسحاق الحضرمي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن يعقوب السعدي ← أحمد بن إسحاق الحضرمي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1937 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1937
1937۔ اردو حاشیہ: کسی غائب شخص کی برائی ذکر کرنا تو زندگی میں بھی غیبت بن جاتی ہے جو سخت منع ہے، حالانکہ اس کی طرف سے دفاع ممکن ہے، تو ایک میت جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا اس کی برائی بیان کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے، نیز گناہوں اور کوتاہیوں سے کون پاک ہے؟ لہٰذا فوت شدہ کی برائی بیان نہ کی جائے بلکہ درگزر کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، البتہ امت مسلمہ کے مفاد کے لیے ضرورت کی حد تک کسی زندہ یا فوت شدہ کی برائی بیان ہو سکتی ہے، جیسے رجالِ حدیث کا فن۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1937]