سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : النهى عن ذكر الهلكى إلا بخير
باب: مردوں کا تذکرہ بھلائی کے ساتھ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1937
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ، فَقَالَ:" لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17862) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1937 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1937
1937۔ اردو حاشیہ: کسی غائب شخص کی برائی ذکر کرنا تو زندگی میں بھی غیبت بن جاتی ہے جو سخت منع ہے، حالانکہ اس کی طرف سے دفاع ممکن ہے، تو ایک میت جو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا اس کی برائی بیان کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے، نیز گناہوں اور کوتاہیوں سے کون پاک ہے؟ لہٰذا فوت شدہ کی برائی بیان نہ کی جائے بلکہ درگزر کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، البتہ امت مسلمہ کے مفاد کے لیے ضرورت کی حد تک کسی زندہ یا فوت شدہ کی برائی بیان ہو سکتی ہے، جیسے رجالِ حدیث کا فن۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1937]
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق