یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : الصلاة على الصبيان
باب: بچوں پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى عَلَيْهِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ , قَالَ:" أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی، میں نے کہا: (یہ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا، اور نہ اس عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا عائشہ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے، اور (اللہ) نے جہنم کی تخلیق کی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1949]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچے کی میت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ میں نے کہا: اسے مبارک ہو، یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ کوئی برائی کی اور نہ برائی کی عمر کو پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا پتا کوئی اور بات ہو جائے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی تو اس میں جانے والے بھی بنا دیے اور انہیں باپوں کی پشتوں میں پیدا کیا۔ اسی طرح آگ بنائی تو اس میں جانے والے بھی بنائے اور انہیں اپنے باپوں کی پشتوں میں پیدا کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القدر 6 (2662)، سنن ابی داود/السنة 18 (4713)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (82)، (تحفة الأشراف: 17873)، مسند احمد 6/41، 208 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور وہ توقف ہے، لیکن یہ پہلے کی بات ہے، بعد میں آپ نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے، البتہ کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت جمہور کا موقف یہی ہے کہ ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۹۵۱، ۱۹۵۳۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1949
| خلق الله الجنة وخلق لها أهلا وخلقهم في أصلاب آبائهم خلق النار وخلق لها أهلا وخلقهم في أصلاب آبائهم |
صحيح مسلم |
6768
| الله خلق للجنة أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم وخلق للنار أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم |
سنن أبي داود |
4713
| الله خلق الجنة وخلق لها أهلا وخلقها لهم وهم في أصلاب آبائهم وخلق النار وخلق لها أهلا وخلقها لهم وهم في أصلاب آبائهم |
سنن ابن ماجه |
82
| الله خلق للجنة أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم وخلق للنار أهلا خلقهم لها وهم في أصلاب آبائهم |
مشكوة المصابيح |
84
| إن الله خلق للجنة اهلا خلقهم لها وهم في اصلاب آبائهم وخلق للنار اهلا خلقهم لها وهم في اصلاب آبائهم |
مسندالحميدي |
267
| أو غير ذلك يا عائشة إن الله عز وجل خلق الجنة وخلق لها أهلا وخلقهم وهم في أصلاب آبائهم، وخلق النار وخلق لها أهلا وخلقهم وهم في أصلاب آبائهم |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1949 in Urdu
عائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق