🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. باب : الأمر بالاستغفار للمؤمنين
باب: مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ , قَالَتْ: فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر (باہر) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2040]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، اپنے کپڑے پہنے اور پھر نکل گئے۔ میں نے اپنی لونڈی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ آپ کا پیچھا کرے۔ اس نے آپ کا پیچھا کیا حتیٰ کہ آپ بقیع (جنت البقیع) میں پہنچ گئے اور اس کے ابتدائی حصے میں کھڑے (دعا کرتے) رہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر واپس چل پڑے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آپ سے پہلے پہنچ گئیں اور مجھے سب کچھ بتا دیا۔ (آپ تشریف لائے تو) میں نے آپ سے کچھ نہ کہا حتیٰ کہ جب صبح ہوئی تو پھر میں نے اس بات کا تذکرہ آپ سے کیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکماً) کہا گیا تھا کہ میں بقیع میں مدفون لوگوں کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17962)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (55)، مسند احمد 6/92 (ضعیف الإسناد) (اس کی راویہ ’’ام علقمہ مرجانہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مرجانة المدنية، أم علقمة
Newمرجانة المدنية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مقبول
👤←👥علقمة بن أبي علقمة المدني
Newعلقمة بن أبي علقمة المدني ← مرجانة المدنية
ثقة مأمون
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← علقمة بن أبي علقمة المدني
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم العتقي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن القاسم العتقي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥الحارث بن مسكين الأموي، أبو عمرو
Newالحارث بن مسكين الأموي ← عبد الرحمن بن القاسم العتقي
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← الحارث بن مسكين الأموي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2040 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2040
اردو حاشہ:
(1) یہ واقعہ سابقہ حدیث والے واقعے سے الگ ہے جیسا کہ اس سے اور مابعد والی حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔
(2) فوت شدگان خود تو دعا کر نہیں سکتے کہ ان کے لیے دعا کا وقت ختم ہوچکا ہے، اس لیے زندہ متعلقین کے لیے ضروری ہے کہ انھیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2040]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2040 in Urdu