🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111. باب : من قتله بطنه
باب: پیٹ کی بیماری میں مرنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2054
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَذَكَرُوا: أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ" , فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى.
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور (وہیں) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما (بھی) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 65 (1064)، (تحفة الأشراف: 3503)، مسند احمد 4/262 و 5/292 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خالد بن عرفطة القضاعيصحابي
👤←👥سليمان بن صرد الخزاعي، أبو مطرف
Newسليمان بن صرد الخزاعي ← خالد بن عرفطة القضاعي
صحابي
👤←👥عبد الله بن يسار الجهني
Newعبد الله بن يسار الجهني ← سليمان بن صرد الخزاعي
ثقة
👤←👥جامع بن شداد المحاربي، أبو صخرة
Newجامع بن شداد المحاربي ← عبد الله بن يسار الجهني
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← جامع بن شداد المحاربي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2054
من يقتله بطنه فلن يعذب في قبره
جامع الترمذي
1064
من قتله بطنه لم يعذب في قبره
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2054 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2054
اردو حاشہ:
پیٹ کی تکلیف سے مراد پیٹ سے متعلقہ بیماری کی کوئی بھی نوعیت ہوسکتی ہے، مثلاً: اسہال یا ہیضہ یا آنتوں کا سرطان وغیرہ۔ حادثاتی موت کو شہادت فرمایا گیا اور پیٹ کی بیماری سے موت کو عذاب قبر سے مانع بتایا گیا۔ چونکہ اس قسم کی اموات زیادہ صدمے اور تکلیف کا موجب ہوتی ہیں، لہٰذا ان کا ثواب و اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بعض نے پیٹ کی تکلیف سے استسقاء کی بیماری مراد لی ہے جس میں مریض کو انتہائی پیاس محسوس ہوتی ہے۔ وہ خوب پانی پیتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، نتیجتاً پیٹ پھول جاتا ہے اور خراب ہو جاتا ہے۔ آخر مریض اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ أعادنا اللہ من سیء الأسقام و میتة السوء۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2054]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1064
شہید کون لوگ ہیں؟
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہٰ سے (یا خالد نے سلیمان سے) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ مار دے ۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں (سنا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1064]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ہیضہ اور اسہال وغیرہ سے مر جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1064]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2054 in Urdu