🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : ذكر الاختلاف على معمر فيه
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2109
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ: مَا تَذْكُرُونَ، قُلْنَا: شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2109]
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ وہاں ہم رمضان المبارک کا تذکرہ کرنے لگے۔ انہوں نے کہا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ماہ رمضان کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں اور ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے طلب گار! ادھر آ۔ اور اے گناہ کے طلب گار! رک جا۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9758)، مسند احمد 4/311، 312، 5/411 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہی اس کا وقت ہے کیونکہ اس وقت معمولی عمل پر بہت زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔ ۲؎: اور توبہ کر لے کیونکہ یہی توبہ کا وقت ہے۔ ۳؎: غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہے کہ عرفجہ نے اسے عتبہ بن فرقد رضی الله عنہ کی روایت بنا دیا ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی اور صحابی سے مروی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عتبة بن فرقد السلمي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عرفجة بن عبد الله الثقفي
Newعرفجة بن عبد الله الثقفي ← عتبة بن فرقد السلمي
مقبول
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← عرفجة بن عبد الله الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن منصور الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2109 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2109
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ روایت کی سند میں خطا ہے۔ سفیان بن عیینہ کا اسے عطاء بن سائب، عن عرفجۃ، عن عتبۃ بن فرقد کے طریق سے بیان کرنا درست نہیں کیونکہ اس طرح یہ روایت عتبہ بن فرقد کی سند سے شمار ہوگی، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ اس طرح کی یہ روایت عرفجۃ عن عتبۃ کے بجائے عرفجۃ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اصْحَابِ النَّبِیِّ چاہیے کہ عرفجہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتا ہے۔
(2) اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کا انتظام اللہ تعالیٰ کے حسب ہدایت ہوتا ہے اور فرشتے اس پر عمل درآمد کرتے ہیں، لہٰذا ہمارے سننے، نہ سننے سے اس اعلان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دیا تو ہر مومن کو یہ اعلان اپنے دل کے کانوں سے سننا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2109]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2109 in Urdu