علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : ذكر الاختلاف على معمر فيه
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ".
عرفجہ کہتے ہیں: میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک (صاحب وہاں) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ (انہوں) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! باز آ جا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2110]
حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گھر میں تھا جس میں حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ تو میں نے ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا۔ (وہاں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب تھے، لہٰذا وہ میری بجائے حدیث بیان کرنے کا زیادہ حق دار تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے بارے میں بیان فرمایا: ”اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، ہر سرکش شیطان کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے طلب گار! آگے اور اے شر کے طلب گار! رک جا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2110 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2110
اردو حاشہ:
”آگے آ“ یعنی نیکی کر کیونکہ یہ نیکی کا موسم ہے اور اس میں بکثرت نیکیاں کمائی جا سکتی ہیں۔
”آگے آ“ یعنی نیکی کر کیونکہ یہ نیکی کا موسم ہے اور اس میں بکثرت نیکیاں کمائی جا سکتی ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2110]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2110 in Urdu
عتبة بن فرقد السلمي ← اسم مبهم