یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : قبول شهادة الرجل الواحد على هلال شهر رمضان وذكر الاختلاف فيه على سفيان في حديث سماك
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ , فَقَالَ: أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاءَلْتُهُمْ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا".
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا (کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (کی گنتی) پوری کرو، (اور) اگر دو گواہ (چاند دیکھنے کی) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار (یعنی عید) کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2118]
حضرت حسین بن حارث جدلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن لوگوں کو خطاب کیا جس دن رمضان المبارک ہونا مشکوک تھا۔ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھتا رہا ہوں اور ان سے مسائل بھی پوچھتا رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنا بند کرو۔ اور چاند دیکھ کر ہی حج اور قربانی کرو۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو (مہینے کے) تیس دن پورے کر لو۔ اور اگر دو شخص چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو بھی روزے رکھنا شروع یا بند کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15621)، مسند احمد 4/321 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، و للحديث علة قادحة عند أحمد (4/ 321) رواه يحيي بن زكريا بن أبى زائدة عن الحجاج بن أرطاة (وهو ضعيف، مدلس) عن حسين بن الحارث الجدلي به. وحديث أبى داود (2339) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2118 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2118
اردو حاشہ:
(1) ”مشکوک دن“ سے مراد شعبان کا تیسواں دن ہے کیونکہ اس کے بارے میں دونوں امکان ہوتے ہیں، شعبان کی تیسویں ہو یا رمضان المبارک کی یکم، خصوصاً جب چاند کا امکان تھا لیکن مطلع ابر آلود تھا، چاند نظر نہ آ سکا۔
(2) ”چاند نظر نہ آئے“ بادل، غبار یا دھواں وغیرہ کی وجہ سے۔
(3) ”دو شخص گواہی دیں۔“ دو شخص تب ضروری ہیں جب مطلع بالکل صاف ہو کیونکہ ایسی صورت میں زیادہ اشخاص کے دیکھنے کا امکان ہوتا ہے، البتہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے جیسا کہ پیچھے حدیث میں بیان ہوا، کیونکہ ایسی صورت میں عموماً نظر آنے کا امکان نہیں ہوتا، ایک آدھ کو نظر آنا بھی غنیمت ہوتا ہے، اس طرح احادیث میں تطبیق ہو جائے گی اور تطبیق ہی بہتر ہوتی ہے، البتہ عید کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔ واللہ أعلم
(1) ”مشکوک دن“ سے مراد شعبان کا تیسواں دن ہے کیونکہ اس کے بارے میں دونوں امکان ہوتے ہیں، شعبان کی تیسویں ہو یا رمضان المبارک کی یکم، خصوصاً جب چاند کا امکان تھا لیکن مطلع ابر آلود تھا، چاند نظر نہ آ سکا۔
(2) ”چاند نظر نہ آئے“ بادل، غبار یا دھواں وغیرہ کی وجہ سے۔
(3) ”دو شخص گواہی دیں۔“ دو شخص تب ضروری ہیں جب مطلع بالکل صاف ہو کیونکہ ایسی صورت میں زیادہ اشخاص کے دیکھنے کا امکان ہوتا ہے، البتہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے جیسا کہ پیچھے حدیث میں بیان ہوا، کیونکہ ایسی صورت میں عموماً نظر آنے کا امکان نہیں ہوتا، ایک آدھ کو نظر آنا بھی غنیمت ہوتا ہے، اس طرح احادیث میں تطبیق ہو جائے گی اور تطبیق ہی بہتر ہوتی ہے، البتہ عید کے لیے دو گواہ ضروری ہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2118]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2118 in Urdu
الحسين بن الحارث الجدلي ← عبد الرحمن بن زيد العدوي