🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : فضل الصيام والاختلاف على أبي إسحاق في حديث علي بن أبي طالب في ذلك
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ حِينَ يُفْطِرُ وَحِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2213]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزے دار کے لیے دو وقت خوشی کے ہیں: جب وہ افطار کرتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 10166 (صحیح) (آگے آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’العلاء بن ھلال باھلی‘‘ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
ثقة مكثر
👤←👥زيد بن أبي أنيسة الجزري، أبو أسامة
Newزيد بن أبي أنيسة الجزري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمرو الأسدي، أبو وهب
Newعبيد الله بن عمرو الأسدي ← زيد بن أبي أنيسة الجزري
ثقة
👤←👥العلاء بن هلال الباهلي، أبو محمد
Newالعلاء بن هلال الباهلي ← عبيد الله بن عمرو الأسدي
ضعيف جدا
👤←👥هلال بن العلاء الباهلي، أبو عمرو
Newهلال بن العلاء الباهلي ← العلاء بن هلال الباهلي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2213 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2213
اردو حاشہ:
(1) روزہ میرے لیے ہے۔ سب عبادات ہی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں، مگر روزے کی تخصیص کی وجہ غالباً یہ ہے کہ روزے میں ریا کاری ممکن نہیں کیونکہ اس کی کوئی ظاہر علامت نہیں جسے کوئی دیکھ سکے روزے کے علاوہ باقی تمام عبادات میں لوگوں کی طرف سے تعریف ممکن ہے، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ کیونکہ یہ عبادات لوگوں کو نظر آتی ہیں، جبکہ روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔
(2) میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ یعنی کوئی دوسرا اس کا بدلہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اس کا ثواب جانتا ہی نہیں، صرف میں ہی جانتا ہوں، لہٰذا میں ہی اس کا بدلہ دوں گا جیسا کہ حدیث نبمبر (2217) میں ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک ہے۔ سوائے روزے کے کہ وہ بے حساب ہے، نیز روزے کا بدلہ جنت ہے اور جنت کوئی اور نہیں دے سکتا۔
(3) جب روزہ کھولتا ہے۔ اس وقت خوشی اللہ تعالیٰ کے فریضے کی تکمیل کی وجہ سے ہوتی ہے یا طبعی خوشی مراد ہے جو ہر انسان کو کھانے سے حاصل ہو تی ہے۔
(4) جب اپنے رب کو ملے گا۔ اس وقت خوشی ہوگی، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور روزے کا ثواب دیکھ کر اور یہی حقیقی خوشی ہے۔
(5) روزے دار کے منہ کی بو۔ جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا میں انسان خوشبو والے شخص کو اپنے قریب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی روزے دار کو اپنے قریب فرمائے گا اور اس سے محبت فرمائے گا گویا یہ بو جو روزے کی حالت میں منہ سے آتی ہے، قیامت کے دن کستوری کی خوشبو کا تمثیل اختیار کرے گی۔ ممکن ہے دنیا ہی میں روزے کی حالت کی بو اللہ تعالیٰ یا فرشتوں کو کستوری سے بڑھ کر خوشبو دار معلوم ہوتی ہو۔ ﴿إنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (الأنفال: 75)
(6) اللہ کی صفت کلام کا اثبات ہوتا ہے، نیز پتا چلتا ہے کہ اللہ کا کلام صرف قرآن مجید ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے کلام فرماتا ہے۔ مذکورہ بالا حدیث، حدیث قدسی ہے۔ حدیث قدسی دراصل اللہ ہی کا کلام ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی بطور عبادت تلاوت نہیں کی جاتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2213]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2213 in Urdu