🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : ثواب من صام يوما في سبيل الله عز وجل وذكر الاختلاف على سهيل بن أبي صالح في الخبر في ذلك
باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی بدولت اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کے فاصلے تک دور کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 3 (1622)، سنن ابن ماجہ/الصوم 34 (1718)، (تحفة الأشراف: 18624) حم2/300، 357 (صحیح) (مزی نے تحفة الاشراف میں ابن حیویہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مراسیل میں ذکر کیا ہے (18624) اس لیے کہ اس کے نسخہ (ہ) میں ’’عن أبي هريرة‘‘ ساقط ہے، اور ابن الاحمر اور ابن سیار نیز سنن صغریٰ سب میں ’’عن ابی ہریرة“ موجود ہے، اور مسند میں بھی ایسے ہی ہے) (ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ: 2564)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← أنس بن عياض الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1622
من صام يوما في سبيل الله زحزحه الله عن النار سبعين خريفا
سنن ابن ماجه
1718
من صام يوما في سبيل الله زحزح الله وجهه عن النار سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2246
من صام يوما في سبيل الله زحزح الله وجهه عن النار بذلك اليوم سبعين خريفا
سنن النسائى الصغرى
2248
من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2246 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2246
اردو حاشہ:
حدیث میں ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کے الفاظ ہیں ہر اس نیک عمل پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جائے، چونکہ قرآن مجید میں ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ سے مراد عموماً جہاد ہوتا ہے، لہٰذا ترجمہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے: جو شخص جہاد کے دوران میں روزہ رکھے۔ نیز ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کے تحت طلب علم یا حج وعمرہ وغیرہ کے سفر میں روزہ رکھنا بھی آجاتا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2246]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1718
(فی سبیل اللہ) جہاد میں روزے رکھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1718]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ گزشتہ روایت 1717 اس سے کفایت کرتی ہے غا لباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے اللہ کی راہ میں کا مطلب کفار سے جہاد کے وقت رکھنا ہے بشرطیکہ اس سے کمزوری پیدا ہوجا نے کا احتمال نہ ہو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کی رضا کے حصو ل کے لئے اس کے حکم کی تعمیل میں روزہ رکھا خلوص نیت سے جو کام کیا جا ئے وہ اللہ ہی کی راہ میں ہوتا ہے۔

(3)
ستر سال کے فاصلے کا مطلب یہ ہے کہ جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا فا صلہ ستر سا ل میں طے کیا جا تا ہے اس سے مرا د بہت زیا دہ دور بھی ہو سکتا ہے فا صلے کی دوری کو واضح کر نے کے لئے ستر سا ل کی مسافت سے تشبیہ دی گئی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1718]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1622
دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا ۱؎۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ستر برس کہا ہے اور دوسرے نے چالیس برس۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1622]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جہاد کرتے وقت روزہ رکھنے کی فضیلت کے حامل وہ مجاہدین ہیں جنہیں روزہ رکھ کر کمزوری کا احساس نہ ہو،
اورجنہیں کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو وہ اس فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔

نوٹ:
(اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے،
ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1622]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2246 in Urdu