سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. باب : ذكر الاستتار عند الاغتسال
باب: غسل کرتے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ:" وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، فَأَسْتُرُهُ بِهِ".
ابو سمح (ایاد) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، تو جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ”میری طرف اپنی گدی کر لو“ تو میں اپنی گدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے آپ کو آڑ کر لیتا تھا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 137 (376) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526)، 113 (613)، (تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو السمح مولى النبي، أبو السمح | صحابي | |
👤←👥محل بن خليفة الطائي محل بن خليفة الطائي ← أبو السمح مولى النبي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن الوليد الطائي، أبو الزعراء يحيى بن الوليد الطائي ← محل بن خليفة الطائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← يحيى بن الوليد الطائي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥مجاهد بن موسى الختلي، أبو علي مجاهد بن موسى الختلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
613
| إذا أراد أن يغتسل قال ولني فأوليه قفاي وأنشر الثوب فأستره به |
سنن النسائى الصغرى |
225
| ولني قفاك فأوليه قفاي فأستره به |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 225 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 225
225۔ اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ننگے بدن غسل نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ ازار باندھ کر غسل فرمایا کرتے تھے جیسا کہ احادیث میں صراحتاً ذکر ہے، مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں فرماتے تھے کہ باقی ماندہ ننگے جسم پر بھی کسی کی نظر پڑے۔ خادم کو اس طرح کھڑا کرتے کہ نہ تو اس کی نظر پڑتی، نہ کسی دوسرے کی کیونکہ وہ خادم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردے کے قائم مقام ہوتا تھا۔
➋ غسل کرتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ بالغ آدمی کے مقام ستر کو دیکھناجائز نہیں۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ننگے بدن غسل نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ ازار باندھ کر غسل فرمایا کرتے تھے جیسا کہ احادیث میں صراحتاً ذکر ہے، مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں فرماتے تھے کہ باقی ماندہ ننگے جسم پر بھی کسی کی نظر پڑے۔ خادم کو اس طرح کھڑا کرتے کہ نہ تو اس کی نظر پڑتی، نہ کسی دوسرے کی کیونکہ وہ خادم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردے کے قائم مقام ہوتا تھا۔
➋ غسل کرتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ بالغ آدمی کے مقام ستر کو دیکھناجائز نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 225]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث613
غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ”میری طرف پیٹھ کر لو“ تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 613]
ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ”میری طرف پیٹھ کر لو“ تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 613]
اردو حاشہ:
کسی کے سامنے بے لباس ہونا جائز نہیں، البتہ تنہائی میں یا پردے میں کسی ضرورت کے تحت لباس اتارنا جائز ہے۔
کسی کے سامنے بے لباس ہونا جائز نہیں، البتہ تنہائی میں یا پردے میں کسی ضرورت کے تحت لباس اتارنا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 613]
محل بن خليفة الطائي ← أبو السمح مولى النبي