یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : ذكر الاختلاف على سليمان بن يسار في حديث حمزة بن عمرو فيه
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2300
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، فَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھوں؟) آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2300]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقینا میں سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2300 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← حمزة بن عمرو الأسلمي