🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2296
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , قَالَ:" إِنْ"، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا،" إِنْ شِئْتَ صُمْتَ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہو تو روزہ رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2296]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، مسند احمد 3/494، سنن الدارمی/الصوم 15 (1714)، وانظر الأرقام التالیة إلی2307، وأیضاً رقم 2308-2310 (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ’’سلیمان‘‘ اور ’’حمزہ‘‘ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث رقم2304 کی سند متصل ہے، نیز اس کی دیگر سند میں بھی متصل ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2297
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِثْلَهُ مُرْسَلٌ.
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ۲؎ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2297]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر اسی کے مثل بیان کیا۔ یہ روایت مرسل (منقطع) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 2296 (مرسل)»
وضاحت: ۱؎: مرسل سے مراد منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار اور حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان ابو مرواح کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ۲۳۰۴ (جو آگے آ رہی ہے) کی سند سے واضح ہے (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2298
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ , قَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2298]
حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو روزہ رکھنا چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2299
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ , وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2299]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ» تو روزہ رکھنا چاہے تو روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ رکھنا چاہے تو چھوڑ بھی سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2300
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، فَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھوں؟) آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2300]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقینا میں سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہے تو رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2301
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2301]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دورانِ سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر روزہ رکھنا چاہے تو رکھ لے اور اگر نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2302
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2302]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لگاتار نفل روزے رکھا کرتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں بھی لگاتار روزے رکھ لیتا ہوں (کوئی حرج تو نہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہے تو روزہ رکھ، چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2303
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2303]
حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مسلسل نفل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی چاہے تو رکھ لے، جی چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2304
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2304]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جو کہ سفر میں روزے رکھا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہے تو روزہ رکھ، چاہے تو نہ رکھ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں