یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : ذكر الاختلاف على سليمان بن يسار في حديث حمزة بن عمرو فيه
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2299
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ , وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2299]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ» ”تو روزہ رکھنا چاہے تو روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ رکھنا چاہے تو چھوڑ بھی سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2299 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← حمزة بن عمرو الأسلمي