🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب : النية في الصيام والاختلاف على طلحة بن يحيى بن طلحة في خبر عائشة فيه .
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2324
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟" , فَقُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَإِنِّي صَائِمٌ"، ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ، وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ، قَالَ:" أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَكَلَ مِنْهُ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو میں روزہ سے ہوں، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے (مگر کھاؤ گا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر فرمایا: نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے (نفلی) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم 26 (1701)، (تحفة الأشراف: 17578)، مسند احمد 6/49، 207، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم32 (1154)، سنن ابی داود/الصوم72 (2455)، سنن الترمذی/الصوم35 (234) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: حیس ایک کھانا ہے جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے سے بنایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥طلحة بن يحيى القرشي
Newطلحة بن يحيى القرشي ← مجاهد بن جبر القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← طلحة بن يحيى القرشي
ثقة متقن
👤←👥عاصم بن يوسف اليربوعي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن يوسف اليربوعي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← عاصم بن يوسف اليربوعي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2324 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2324
اردو حاشہ:
(1) حیس یہ عربوں میں ایک معروف کھانا تھا جو کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ سے تیار کیا جاتا تھا۔ چونکہ کھانے مختلف ہوتے ہیں اور ہر قوم کے اپنے اپنے کھانے ہوتے ہیں، لہٰذا دوسری زبان میں ہر کھانے کا ترجمہ ممکن نہیں، خصوصاً جبکہ یہ کھانا ہمارے ہاں تیار ہی نہیں کیا جاتا تو اس کا نام کیسے ہوگا؟
(2) نفل روزے کو بلا وجہ ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ نفل عبادت انسان کی اپنی مرضی پر موقوف ہوتی ہے۔ ایسے روزے کی قضا ادا کرنا واجب نہیں کیونکہ جب اصل روزہ ہی نفل ہے تو قضا ادا کرنی کیسے واجب ہو سکتی ہے؟ البتہ جواز میں کوئی شبہ نہیں، جیسے وتر کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قضا ادا کیا کرتے تھے اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی۔
(3) بعض اہل علم نے نفل روزے کی نیت کو نصف النہار سے قبل ضروری قرار دیا ہے تاکہ اکثر روزہ نیت کے ساتھ ہو اور یہ معقول بات ہے۔
(4) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کے زاہد اور متقی ترین انسان تھے۔ آپ کی نظر دنیاوی ملذذات کے بجائے ہمیشہ اخروی نعمتوں پر ہوتی تھی… صلی اللہ علیہ وسلم …
(5) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم طعام وشراب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے تحائف بھیج کر اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ رضي اللہ عنهم ورضواعنه۔
(6) اچھے واعظ کی نشانی ہے کہ وہ مثالوں سے اپنی بات سامعین کے ذہنوں میں اچھی طرح نقش کر دیتا ہے۔ مثال سے بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔
(7) کوئی چیز نفلی صدقے کی نیت سے علیحدہ کرنا اور پھر اسے صدقہ نہ کرنا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2324]