🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب : صوم النبي صلى الله عليه وسلم - بأبي هو وأمي - وذكر اختلاف الناقلين للخبر في ذلك
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2372
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ، قَالَ:" مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
حضرت عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا: میں تو نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل سمجھ کر اس کا روزہ رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی عاشوراء اور ماہ رمضان المبارک کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم69 (2006)، صحیح مسلم/الصوم19 (1132)، (تحفة الأشراف: 5866)، مسند احمد 1/213، 222، 367 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن أبي يزيد المكي
Newعبيد الله بن أبي يزيد المكي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة كثير الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبيد الله بن أبي يزيد المكي
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2006
ما رأيت النبي يتحرى صيام يوم فضله على غيره إلا هذا اليوم يوم عاشوراء وهذا الشهر يعني شهر رمضان
صحيح مسلم
2662
صام يوما يطلب فضله على الأيام إلا هذا اليوم لا شهرا إلا هذا الشهر
سنن النسائى الصغرى
2372
صام يوما يتحرى فضله على الأيام إلا هذا اليوم يعني شهر رمضان يوم عاشوراء
مسندالحميدي
490
ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم صام يوما يتحرى فضله على الأيام إلا هذا اليوم يعني عاشوراء وهذا الشهر يعني شهر رمضان
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2372 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2372
اردو حاشہ:
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں تو کوئی کلام ہی نہیں، اس کے بعد یوم عاشوراء یعنی دس محرم الحرام افضل ہے۔ اس دن بہت سے اہم کام سر انجام پائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2372]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:490
490- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مخصوص دن کی فضیلت کو اہتمام سے حاصل کرنے کے لئے اس دن روزہ نہیں رکھا صرف یہ ایسا دن ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد عاشورہ کا دن تھا، یا یہ مہینہ ہے، سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد رمضان کا مہینہ تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:490]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان اور عاشوراء (محرم کی نو تاریخ) کے روزے بہت فضیلت رکھتے ہیں، ان کے علاوہ تمام دن روزہ رکھنے میں برابر ہیں، اگر کوئی چاہے تو صوم داؤدی (ایک دن روزہ رکھنا، ایک دن افطار کرنا) رکھ لے، یا ایام بیض (ہر ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کے روزے رکھ لے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 490]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2372 in Urdu